کراچی (رفیق مانگٹ) امریکہ اور نیٹو کے درمیان تعلقات فیصلہ کن موڑ پر، ٹرمپ اور وینس کی پالیسیوں سے نیٹو اتحاد سب سے بڑے بحران سے دوچار، ٹرمپ نے نیٹو کو پیپر ٹائیگر اور اتحادیوں کو بزدل کہہ دیا۔ امریکی وزیر دفاع کا کہنا ہے یورپ اپنی سلامتی خود سنبھالے، نیٹو ہیڈکوارٹرز سے امریکی کردار کم، 2027 تک مکمل یورپی کنٹرول کا منصوبہ، 5 فیصد دفاعی اخراجات کا دباؤ، یورپی معیشتوں پر بھاری بوجھ کا خدشہ، فرانس اور جرمن قیادت میں آزاد یورپی فوج کی بازگشت سنائی دی ہے۔ امریکہ اور نیٹو کے درمیان تعلقات فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکے ہیں، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ اور جے ڈی وینس کی سخت پالیسیوں، یورپ پر کھلی تنقید، اور دفاعی بوجھ منتقل کرنے کی حکمتِ عملی نے سات دہائیوں پر محیط اس اتحاد کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بدلتی حکمتِ عملی کے تحت امریکہ نہ صرف نیٹو کو ازسرنو تشکیل دینا چاہتا ہے بلکہ عملاً اس سے پیچھے ہٹنے کے اشارے بھی دے رہا ہے، جس سے عالمی طاقت کے توازن اور مغربی اتحاد کے مستقبل پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس نے نہ صرف ٹرمپ انتظامیہ کے یورپ مخالف نقطہ نظر کی عکاسی کی ہے بلکہ اسے ایک نئی جارحانہ زبان بھی دی ہے۔ فروری 2025 میں میونخ سکیورٹی کانفرنس میں وینس نے اپنی تقریر میں روایتی امریکی پالیسی سے ہٹ کر یورپ پر زوردار حملہ کیا۔انہوں نے کہا کہ یورپ کو درپیش سب سے بڑا خطرہ روس یا چین نہیں، بلکہ اندر سے ہے۔ انہوں نے یورپی جمہوریتوں پر الزام لگایا کہ وہ روس نواز اور انتہا پسند جماعتوں کو دبانے کے بجائے سنسر شپ اور منتخب نتائج منسوخ کرنے جیسے اقدامات کر رہی ہیں ۔یہ تقریر نیٹو اور ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں ایک بڑی دراڑ کا آغاز بنی۔ اس تقریر کے بعد انہوں نے جرمنی کی انتہا پسند جماعت اے ایف ڈی کے رہنما سے علیحدہ ملاقات کی، جسے جرمن حکومت نے نظرانداز کیا تھا، جس سے یورپی رہنماؤں میں شدید غم و غصہ پایا گیا ۔ مارچ 2025 میں لیک ہونے والی سگنل چیٹ میں وینس کا ایک پیغام سامنے آیا"میں یورپ کو پھر سے بیل آؤٹ کرنے سے نفرت کرتا ہوں۔"اس پر سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ نے جواب دیا"میں یورپی مفت خوری سے آپ کی نفرت میں شریک ہوں۔ یہ قابلِ افسوس ہے"۔ وینس نے یوکرین کی حمایت کو غیر پائیدار قرار دیا۔ انہوں نے یورپی ممالک کی عسکری صلاحیتوں کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یوکرین میں امن کسی ایسے بے ترتیب ملک سے نہیں آئے گا جس نے 30 یا 40 سال سے جنگ نہ لڑی ہو۔