اسلام آ باد ( نیوز رپورٹر) صدر مملکت آصف علی زردای نے پانی کے زیادہ ذمہ داری اور احتیاط سے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر تشویش ہے ، بھارت کا اس معاہدے کو معطل کرنا، ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنا اور طے شدہ طریقہ کار کو متاثر کرنا ایک دیرینہ بین الاقوامی معاہدے کی روح اور متن دونوں کے منافی ہے، جو گزشتہ چھ دہائیوں سے دریائے سندھ کے نظام کے منصفانہ استعمال کو یقینی بناتا رہا ہے،آبی وسائل کا محتاط انتظام، اس سلسلے میں سرمایہ کاری و منصوبہ بندی اور خواتین کی زیادہ شمولیت ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم آب پر اپنے پیغام میں کیا ۔صدر مملکت نے بھارت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد فوری طور پر بحال کرے۔ایوان صدر کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ اس سال عالمی یومِ آب کا موضوع "پانی اور صنفی مساوات” ہے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پانی کی کمی کا اثر سب پر یکساں نہیں ہوتا۔ جب محفوظ پانی گھر کے قریب دستیاب نہ ہو تو خواتین اور بچیاں سب سے زیادہ بوجھ اٹھاتی ہیں۔