• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پٹرولیم کی قیمتیں کم کرنے کیلئے ایتھنول مکسنگ پر غور کیا جائے، مفتاح اسمٰعیل

انصار عباسی

اسلام آباد :…سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں کمی لانے کیلئے ایتھنول بلینڈنگ پالیسی کے حوالے سے محتاط اور سنجیدہ تحقیق پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ تاہم، انہوں نے مناسب جائزے کے بغیر قبل از وقت فیصلوں سے خبردار کیا۔ اس خیال پر تبصرہ کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایتھنول بلینڈنگ کی ممکنہ افادیت کا جائزہ لینے میں کوئی حرج نہیں، لیکن جلدبازی میں پالیسی تبدیل نہ کی جائے۔ انہوں نے دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’چیزوں کا جائزہ لینا اور انہیں پرکھنا ہمیشہ مفید ہوتا ہے، لیکن پالیسی تبدیل کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔‘‘ انہوں نے نشاندہی کی کہ اگر ایتھنول کی پیداوار تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل ثابت ہوتی ہے تو شوگر ملز فطری طور پر اس شعبے میں داخل ہو جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا، ’’اُنہیں ایک نئی منڈی میسر آئے گی اور توقع کریں گے کہ ایتھنول کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔‘‘ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر ممکنہ اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ نتائج کا انحصار بڑی حد تک حکومتی پالیسی پر ہوگا۔ اگر کمپنیوں کو کسی مخصوص شرح، مثلاً 10؍ فیصد ایتھنول کی آمیزش کا پابند بنایا جائے اور اس کیلئے ایک مقررہ قیمت دی جائے تو بہت سی کمپنیاں ایتھنول کم نرخ پر حاصل کر کے اس فرق کو بطور منافع برقرار رکھ سکتی ہیں۔ سابق وزیر نے تجویز دی کہ پاکستان اسٹیٹ آئل اور شوگر انڈسٹری کے نمائندوں کے ساتھ مل کر وزارت پٹرولیم فوری طور پر ایک ابتدائی جائزہ لے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس کا مطالعہ چند دنوں میں کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد مختلف آپشنز ترتیب دیے جا سکتے ہیں۔‘‘ تاہم، انہوں نے فوری نفاذ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا اور عملی مسائل؛ جیسے بلینڈنگ کے طریقۂ کار، درکار انفراسٹرکچر اور مدتِ تکمیل کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں اسے فوری طور پر قابلِ عمل اور نافذ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔‘‘ مفتاح اسمٰعیل نے ایتھنول بلینڈنگ کی معاشی افادیت کو عالمی تیل کی قیمتوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ تب پرکشش بنتی ہے جب برینٹ خام تیل کی قیمت 100؍ ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہو۔ انہوں نے وضاحت کی، ’’60؍ سے 80؍ ڈالر فی بیرل کی عام قیمتوں پر ایتھنول عموماً معاشی طور پر قابلِ عمل نہیں ہوتا۔‘‘ موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برازیل میں گنّے اور ایتھنول کی ایک وسیع صنعت موجود ہے جہاں چینی (شوگر) اکثر ضمنی پیداوار ہوتی ہے، جبکہ امریکا بڑے پیمانے پر مکئی کی کاشت اور حکومتی پالیسیوں کے ذریعے ایتھنول کی پیداوار کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں موجودہ پٹرول کی قیمتیں ایتھنول بلینڈنگ کو بظاہر مالی طور پر قابلِ عمل بنا سکتی ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ عملی اور انتظامی رکاوٹیں قلیل مدت میں اس کی افادیت کو محدود کر سکتی ہیں۔

اہم خبریں سے مزید