اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجسنی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات اس ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔
اطالوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے سربراہ آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات نہ صرف نیوکلیئر ایشو بلکہ وسیع امور پر ہوں گے، میزائل، ایران سے جڑی ملیشیا، سیکیورٹی یقین دہانیاں مذاکرات کا حصہ ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری مسئلے کا حل فوجی نہیں بلکہ سفارتی ہونا چاہیے۔
رافیل گروسی نے کہا کہ 3 ہفتوں کی جنگ نے صورتحال بدل دی ہے، اور ایران کا معاشی و توانائی کا ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو کچھ نقصان ضرور پہنچا ہے، لیکن وہ فیصلہ کن نہیں اور ایران اب بھی اپنی تمام جوہری صلاحیت برقرار رکھتا ہے۔
دوسری جانب امریکا ایران جنگ بندی کیلئے سفارتی کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔
وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کو فریقین تک پاکستان کی تعمیری سفارتی رسائی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی استحکام کیلئے فوری طور پر جنگ کا خاتمہ ضروری ہے۔
سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا، سعودی ولی عہد نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا۔
اس سے قبل سینئر ایرانی ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکی تجویز ایران کے حوالے کردیں۔
برطانوی خبر ایجنسی نے سینئر ایرانی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے امریکی تجویز ایران کے حوالے کردیں، تاہم سینئر ایرانی ذرائع نے امریکی تجویزکی تفصیلات نہیں بتائیں۔
ذرائع کےمطابق ایران اور امریکا کےدرمیان ممکنہ مذاکرات کے مقام کا فیصلہ ہونا باقی ہے، ترکیہ اور پاکستان دونوں مذاکرات کے ممکنہ میزبان کے طور پر زیر غور ہیں۔