انصار عباسی
اسلام آباد :…بین الصوبائی کشیدگی کے ایک ڈرامائی واقعے میں خیبر پختونخوا (کے پی) حکومت نے قومی مالیاتی ایوارڈ (این ایف سی) کے اجلاس سے واک آؤٹ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ صوبہ ’’ایک ایسے غیر آئینی فارمولے کا حصہ نہیں رہنا چاہتا جو علاقے، خصوصاً نئے ضم شدہ اضلاع، کیلئے نقصان دہ ہے۔‘‘ یہ اقدام 11ویں این ایف سی کے سب گروپ (ہفتم) کے اجلاس کے دوران سامنے آیا، جو خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے سابقہ فاٹا کے وفاقی قابلِ تقسیم محاصل میں حصے پر غور کیلئے طلب کیا گیا تھا۔ اجلاس کی صدارت خیبر پختونخوا نے کی تاہم بعد میں کارروائی سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے دیگر صوبوں پر الزام عائد کیا کہ وہ 25ویں آئینی ترمیم کے بعد درکار آئینی ایڈجسٹمنٹس سے انکار کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں صوبائی وزیرِ خزانہ مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع کے حصے کو تسلیم کرنے میں مسلسل تاخیر آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور یہ ’’تنگ نظر صوبائیت‘‘ کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبے کا موقف ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے باوجود این ایف سی فارمولے کی تاحال آبادی اور جغرافیائی حقائق میں اضافے کے مطابق تجدید نہیں کی گئی۔ اس کے مطابق آئین کے آرٹیکل 160(6) کے تحت ساتویں این ایف سی ایوارڈ میں 8؍ مرتبہ توسیع کے نتیجے میں ضم شدہ اضلاع عملاً نظرانداز ہو گئے ہیں، جس سے وسائل کی منصفانہ تقسیم متاثر ہوئی ہے۔ خیبر پختونخوا نے ان امور پر بھی تشویش ظاہر کی جنہیں اس نے ’’غیر قانونی ادائیگیاں‘‘ قرار دیا، اور دعویٰ کیا کہ تقریباً 964؍ ارب روپے کے وہ فنڈز، جو ضم شدہ اضلاع کی ترقی، استحکام اور سلامتی کیلئے مختص تھے، فارمولے پر بروقت نظرِ ثانی نہ ہونے کے باعث دیگر مقاصد کیلئے منتقل کر دیے گئے۔ مراسلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خیبر پختونخوا نے خصوصاً مغربی سرحد کے حوالے سے سکیورٹی چیلنجز کا غیر متناسب بوجھ برداشت کیا ہے، اور خبردار کیا گیا کہ ضم شدہ اضلاع کو مسلسل نظرانداز کرنے سے قومی استحکام اور یکجہتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ وفاقی نظام اور این ایف سی کے عمل سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے خیبر پختونخوا نے واضح کیا کہ وہ ایسے طریقہ کار کی حمایت نہیں کر سکتا جو اس کے نزدیک آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہو اور ملک کے ایک نہایت کمزور خطے کیلئے نقصان دہ ہو۔ عبوری حل کے طور پر صوبے نے تجویز دی کہ وفاقی حکومت وسائل کی تقسیم کے فارمولے پر نظرِ ثانی کرے یا متفقہ این ایف سی ایوارڈ کی حتمی منظوری تک صوبوں کیلئے صوابدیدی گرانٹس متعارف کرائے۔ خیبر پختونخوا نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر این ایف سی کا اجلاس ایک واضح ایجنڈے کے ساتھ طلب کرے تاکہ فارمولے کی تجدید کی جا سکے، غیر آئینی عناصر کو ختم کیا جائے اور وسائل کی تقسیم کو 25ویں آئینی ترمیم کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کیا جا سکے۔ صوبے نے اس امر کا اظہار بھی کیا کہ وہ این ایف سی کے عمل میں دوبارہ شرکت کیلئے تیار ہے، بشرطیکہ اس مسئلے کو آئینی تقاضوں کے مطابق حل کیا جائے، اور اس بات پر زور دیا کہ ایک منصفانہ اور تازہ ترین ایوارڈ مالی استحکام، ترقی اور قومی یکجہتی کیلئے ناگزیر ہے۔