• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آوارہ کتوں نے شہریوں کی زندگی اجیرن کردی، ریبیز سے ایک اور ہلاکت

کراچی (بابر علی اعوان) کراچی میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کی زندگی اجیرن کر رہی ہے اور دندناتے آوارہ کتوں سے لوگ خوفزدہ دکھائی دیتے ہیں۔ روزانہ درجنوں افراد کتوں کے کاٹے سے زخمی ہو جاتے ہیں۔ جمعے کی رات بھی کتے کے کاٹے سے متاثرہ گارڈن کے رہائشی 42 سالہ شخص انڈس اسپتال میں انتقال کر گئے، جس کے ساتھ ہی رواں سال سندھ میں ریبیز سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ ہو گئی، جبکہ کتے کے کاٹے سے متاثرہ افراد کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے، جن میں بڑی تعداد میں بچے بھی شامل ہیں۔ انڈس اسپتال کے ترجمان کے مطابق، متاثرہ 42 سالہ شخص کو تقریباً ایک ماہ قبل ایک مشتبہ پاگل کتے نے کاٹا تھا۔ تاہم بروقت اور مکمل اینٹی ریبیز علاج نہ ملنے کی وجہ سے وہ شدید علامات کے ساتھ اسپتال لایا گیا۔ اسپتال پہنچنے تک مریض کو بخار، بے چینی، اور ہائیڈروفوبیا (پانی سے خوف) جیسی مہلک علامات لاحق ہو چکی تھیں۔ کل رات اسپتال لانے کے بعد مریض کی طبیعت بگڑ گئی اور ڈاکٹروں کی تمام کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل جنوری سے فروری کے دوران سندھ میں ریبیز کے باعث چار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں ضلع سانگھڑ کی 8 سالہ بچی، گلشنِ معمار کے 42 سالہ شہری، لیاری کے 75 سالہ بزرگ، اور میرپورخاص کے علاقے ڈگری کی 10 سالہ بچی شامل ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق ریبیز سے بچاؤ کے لیے فوری طور پر ویکسین اور ربیز امیونو گلوبولن لگوانا ضروری ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کتے کے کاٹنے کو ہرگز نظر انداز نہ کریں اور فوری علاج کروائیں۔

اہم خبریں سے مزید