کراچی (رفیق مانگٹ) ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر اسماعیل بائی نے کہا ہے کہ امریکا کا 15 نکاتی امن منصوبہ غیر معقول اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے، امریکا نے ایران کو پاکستان کے ذریعے 15نکاتی امن منصوبہ بھیجا، واشنگٹن سنجیدہ نہیں، ایسی شرائط پر سرکاری مؤقف دینا ضروری نہیں سمجھتے۔ امریکا سے جوہری مذاکرات میں ایران نے انتہائی لچک دکھائی، برطانوی حکام نے بھی اعتراف کیا، عمانی وزیر خارجہ نے درست کہا تھا معاہدہ انتہائی قریب تھا۔ مکمل تحفظ کے یقین تک جنگ بندی ممکن نہیں، نئے سپریم لیڈر زندہ اور مکمل صحت مند، لیکن جنگی حالات پر احتیاط برتنی پڑ رہی ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر اسماعیل بائی نے ایک تفصیلی انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے پاکستان کے ذریعے تہران کو ایک 15 نکاتی امن منصوبہ بھجوایا تھا، جس میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندی، علاقائی گروہوں کی حمایت ختم کرنے اور تمام افزودہ مواد ہٹانے جیسے مطالبات شامل تھے۔ ترجمان نے اس منصوبے کو ‘غیر معقول اور انتہائی زیادہ قرار دیا۔ ڈاکٹر بائی نے کہا کہ ایران کو ثالثوں کے ذریعے امریکا کی تجاویز موصول ہوئیں، مگر وہ ایسی شرائط پر سرکاری مؤقف دینے کی ضرورت نہیں سمجھتے کیونکہ یہ ایران کے بنیادی حقوق سے متصادم ہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن کی سفارت کاری سنجیدہ نہیں اور اس کے مطالبات عملی نہیں ہو سکتے۔ تہران سے ایک غیرملکی میڈیا کو خصوصی اور سخت سوالات پر مبنی انٹرویو میں ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر اسماعیل بائی نے جاری جنگ، خلیجی خطے میں کشیدگی، امریکا کے ساتھ تعطل کا شکار جوہری مذاکرات، انسانی حقوق کے الزامات، اور ایران کے عسکری مؤقف سمیت متعدد حساس امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ ایرانی ترجمان نے موجودہ امریکی انتظامیہ پر نو ماہ میں دو بار سفارت کاری سے انحراف کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے 2015 کے جوہری معاہدے سے بلا وجہ اور یکطرفہ انخلا کیا اور معاہدے کی بحالی کی ہر کوشش کو واشنگٹن نے مسلسل شرائط بدل کر ناکام بنایا۔جنیوا میں جنگ سے قبل ہونے والے قبل از مذاکرات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر بائی نے عمانی وزیر خارجہ کے اس مؤقف کی توثیق کی کہ معاہدہ انتہائی قریب تھا۔ ان کے مطابق کئی بڑے معاملات، جیسے زیادہ افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنا اور اسے dilute کرنا، تقریباً طے ہو چکے تھے۔ انہوں نے IAEA کے سربراہ رافائل گروسی کے اس بیان کو مسترد کر دیا کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ ڈاکٹر بائی کا کہنا تھا کہ گروسی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں تھے، جبکہ برطانوی حکام نے بھی اعتراف کیا تھا کہ ایران نے بے مثال لچک دکھائی۔ ڈاکٹر بائی نے ان تین اقدامات کی وضاحت کی جن پر ایران نے جنیوا میں لچک دکھائی(1) زیادہ افزودہ یورینیم کو محلول بنانے پر آمادگی،(2) افزودگی کی سطح کو ایران کی ضرورت کے مطابق محدود رکھنے کی پیشکش،(3) زیادہ افزودہ یورینیم ذخیرہ نہ کرنے کی یقین دہانی۔ تاہم زیرو انرشمنٹ کو انہوں نے این پی ٹی قوانین کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ آئی اے ای اے کے اندازے کے مطابق ایران کے پاس گزشتہ سال 60 فیصد افزودہ یورینیم کے 400 کلوگرام ذخائر تھے۔