کراچی (رفیق مانگٹ)آبنائے ہرمز نے عالمی تیل مارکیٹ میں بھونچال پیدا کر دیاقیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدش،ایشیا میں فیول کی قلت، پاکستان اور تھائی لینڈ سمیت متعدد ممالک متاثر،سعودی عرب اور یواے ای نے متبادل پائپ لائنز سے سپلائی بحال کرنے کی کوشش کی،عالمی تیل کی سپلائی میں کمی 11.1 ملین بیرل یومیہ،ایل این جی کی عالمی سپلائی شدید دباؤ میں، متبادل راستے کم اور اسٹاک محدود،یورپ میں ڈیزل کی قلت، اگلے ہفتوں میں قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کا خدشہ،11 ملین بیرل کا سپلائی خلا برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسپین اور اٹلی کی مشترکہ تیل کی کھپت سے بھی زیادہ ، 5 سے10 ملین بیرل فی دن کی طلب میں کمی،تاریخ کے سب سے بڑے تیل سپلائی بحران نے ایک ماہ کا سنگ میل عبور کر لیا ہے، جس سے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ، ترقی کی پیش گوئیاں کم ہونا، اور ایشیا کے ممالک جیسے تھائی لینڈ سے پاکستان میں فیول کی قلت کے آثار سامنے آئے ہیں۔بلوم برگ کے مطابق دنیا نے صورتحال کی سنگینی ابھی تک نہیں سمجھی۔امریکی حکومتی عہدیداران اور وال اسٹریٹ کے تجزیہ کار اب اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ تیل کی قیمتیں غیر معمولی طور پر200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔کئی ماہرین نے 1970 کی دہائی کے تیل بحران کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ہرمز کی بندش ایک بڑے عالمی بحران کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔ ایشیا میں فیول کی قلت مغرب کی جانب پھیلنے کا خدشہ ہے، اور یورپ کو اگلے ہفتوں میں ڈیزل کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ہرمز کی بندش کے بعد عالمی تیل کی سپلائی میں کمی تقریباً 11.1 ملین بیرل یومیہ ہے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے متبادل راستوں کے ذریعے 10.9 ملین بیرل یومیہ کا بوجھ کم کرنے کی کوشش کی ہے۔عالمی تیل کی اوسط سپلائی جنوری اور فروری 2026 میں 106.9 ملین بیرل یومیہ تھی، لیکن بندش کے باعث 18.4 ملین بیرل یومیہ کی کمی واقع ہوئی۔سعودی عرب نے 7.3 ملین بیرل یومیہ تیل کی سپلائی متبادل راستوں سے فراہم کی، انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے 2 ملین بیرل یومیہ کا ذخیرہ جاری کیا، اور دیگر اقدامات کے ذریعے 3.7 ملین بیرل یومیہ کا فرق پورا کیا گیا۔ٹوٹل انرجیز کے چیف ایگزیکٹو پاتریک پویان نے کہااگر یہ بحران تین یا چار ماہ سے زیادہ جاری رہا تو یہ دنیا کے لیے ایک سسٹمک مسئلہ بن جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 20فیصد عالمی خام تیل اور ایل این جی کی پیداواری صلاحیت متاثر ہونے سے سنگین نتائج ہوں گے۔ہرمز سے پیدا ہونے والا روزانہ 11 ملین بیرل کا سپلائی خلا برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسپین اور اٹلی کی مشترکہ تیل کی کھپت سے بھی زیادہ ہے۔ کم ہوتی طلب، خاص طور پر ایشیا میں، اس خلا کو جزوی طور پر پورا کر رہی ہے۔امریکی اور دیگر ممالک نے ریکارڈ اسٹاک آئل ریلیز کا اعلان کیا ہے تاکہ قیمتوں میں استحکام آئے، جبکہ ایران نے چند غیر ملکی جہازوں کو آبنائے ہرمز گزرنے کی اجازت دی ہے، لیکن یہ اقدامات محدود اثر رکھتے ہیں۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے تیل کو پائپ لائن کے ذریعے متبادل راستوں سے نکالنا شروع کر دیا ہے۔ سعودی عرب نے 60فی تیل خلیج سے یانبُو ایکسپورٹ ٹرمینلز تک منتقل کیا ہے۔موجودہ سطح پر تیل کی قیمتیں تقریباً 112 ڈالرزفی بیرل ہیں، جو جنگ کے آغاز سے 55فی صد زیادہ ہے، مگر 2008 کے ریکارڈ 147.50 کے مقابلے میں کم ہے۔ یورپی قدرتی گیس کی قیمتیں 70فیصدبڑھ گئی ہیں، مگر 2022 کے بحران کی سطح تک نہیں پہنچیں۔ایشیا میں طلب تقریباً 2 ملین بیرل فی دن کم ہو گئی ہے، خاص طور پر پیٹرو کیمیکل سیکٹر میں، جبکہ پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول کی کمی بھی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں کرکٹ شائقین کو گھر سے میچ دیکھنے کی ہدایت دی گئی تاکہ ایندھن کی بچت ہو۔یورپ میں اگلے ہفتوں میں ڈیزل کی قلت کا خدشہ ہے۔