تحریر کا عنوان علّامہ اقبالؒ کی کتاب’’ضربِ کلیم‘‘ کی ایک تین اشعار کی مختصر نظم’’فلسطینی عرب سے‘‘ کا چوتھا مصرعہ ہے۔ موجودہ دَور میں جو اہمیت واشنگٹن کی ہے، ماضی میں یہی اثر و رسوخ اور مادّی طاقت برطانیہ کے پاس تھی۔ اُس کے استعماری پنجے پوری دنیا کی گردن پر گڑے ہوئے تھے۔ فرنگ یا فرنگی، اصل میں’’Frank‘‘سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب، فرانس ہے، لیکن استعماری دَور میں انیسویں، بیسویں صدی کے لٹریچر میں یہ اصطلاح گوری چمڑی والے سارے یورپینز کے لیے استعمال ہونے لگی تھی۔
سترھویں صدی کے نصف آخر سے لے کر بیسویں صدی کے وسط تک، فرانس اور برطانیہ مسلسل دنیا پر راج کرتے رہے تھے۔ یہی وہ عرصہ تھا، جب شمالی امریکا ایک’’سُپر پاور‘‘ بن کر اُبھرا اور اُس نے برطانیہ اور فرانس کی جگہ اپنا تسلّط قائم کر لیا۔ یہودی برطانیہ میں بھی اقتصادی اور سیاسی اثر و رسوخ کے مالک تھے، جب کہ امریکا میں تو اُنہوں نے سیاست، معیشت، صنعت، صحافت اور فلم، ڈرامے جیسے ذہن سازی اور تفریح کے میدان بھی اپنے ہاتھ میں لے لیے۔
معروف یہودی میئر، امسچیل روتھ شیلڈ(Amschel Rothchild)اٹھارہویں صدی میں جرمنی سے برطانیہ منتقل ہوا اور بینکس کی ایک بہت بڑی سلطنت قائم کر لی۔ وہ دنیا کے امیر ترین خاندان کا سربراہ تھا۔ تین صدیوں سے خاندان کی کئی شاخوں میں دولت تقسیم ہونے کے باوجود، یہ خاندان بینکنگ انڈسٹری میں سرِفہرست ہے۔ بیسویں صدی کے دوسرے عشرے اور مابعد، برطانیہ میں صیہونی تحریک اور فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری کی مہم کا سرپرست اِسی خاندان کا سربراہ، لائن والٹر روتھ شیلڈ( Lional Walter Rothchild)تھا۔
اُس کی برطانوی حکومت، خاص طور پر اُس کے یہودی وزیرِ خارجہ(اور سابق وزیرِ اعظم) آرتھر بالفور کے ساتھ بہت قریبی تعلقات اور گہری مفاہمت تھی۔مجلسِ اقوام( League of Nations )کا منصوبہ تو امریکی صدر ووڈرو ولسن نے پیش کیا تھا، لیکن صیہونی تحریک کے جن زعماء نے اِسے اپنے دل کی آواز سمجھ کر، بڑھ چڑھ کر اس کے قیام کے لیے کوشش کی، اُن میں وائزمین، نہُم سوکولو، ڈیوِڈ بن گورین، یہودی ربّی اسٹیفن ایس وائر، لارڈ لائیل والٹر جیسے پُرجوش صیہونی رہنما اور فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری کی مہم کے سرخیلوں سے بھی روتھ شیلڈ کے روابط تھے۔ یوں گویا لندن یہودیوں کے تابع تھا۔ علامہ اقبالؒ کی آنکھوں کے سامنے1917ء میں’’اعلان بالفور‘‘ ہوا، جو فلسطین میں یہودیوں کی قومی ریاست کے قیام کا اعلان تھا۔
اس ناجائز اور غاصب ریاست کی آبادکاری کے لیے اُس وقت کی دنیا میں سب سے امیر یہودی خاندان، روتھ شیلڈ نے سرمایہ فراہم کیا۔ یہودی ریاست کے قیام کو نام نہاد عالمی توثیق فراہم کرنے کے لیے خاص طور پر مجلسِ اقوام کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، جس کا مرکزی دفترجنیوا میں تھا۔ اس ادارے کے پیچھے جو اہم یہودی ذہن سرگرم تھے، اُن کے نام پہلے لکھے جا چُکے ہیں۔
تاہم، اِس میں سب سے مؤثر کردار معروف یہودی، مائیکل چیم وائزمین(Michel Chaim Weizmann) کا تھا، جو پہلا اسرائیلی صدر بنا۔ فلسطینیوں کا مقدّر لندن اورجنیوا میں اٹک گیا تھا، اِسی نسبت سے اقبالؒ نے کہا تھا؎’’تری دوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں…فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے۔‘‘
’’فرنگ‘‘ کی اصطلاح استعماری دَور میں عموماً برطانیہ کے لیے استعمال ہوتی تھی، لیکن شاعری اور ادب میں پوری مغربی دنیا کو فرنگی کہا جاتا تھا۔ اِسی تناظر میں اقبالؒ نے فلسطینی عربوں کو یہ تلخ حقیقت سمجھائی کہ’’تری دوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں‘‘ کہ دونوں مراکز پر یہودیوں کی گرفت ہے۔ فرنگی دنیا کی رگِ جاں یہودیوں نے اپنی مُٹھی میں لے رکھی ہے۔
جنیوا اور لندن میں جو فیصلے ہو رہے ہیں، وہ یہودیوں کی مرضی سے ہوتے ہیں۔ ہمیں یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہیے کہ یہودی مزاج فتنہ، فساد اور شر سے مرکّب ہے اور اِسی شر کو محسوس کر کے رومی سلطنت نے دو مراحل میں اُنہیں پہلی صدی عیسوی کے نصف آخر میں اپنی سلطنت سے باہر نکال دیا تھا۔
اُن کی ایک بڑی تعداد اندلس کی مسلمان سلطنت میں جا کر آباد ہوئی۔ جب1492 ء میں مسلمان ہسپانوی سلطنت کا چراغ گُل ہوا، تو ملکہ ازابیلا، شاہ فرڈی نینڈ اور پوپ اِنوسینٹ ہشتم نے مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں کے قتلِ عام کا حکم دیا۔ اُس وقت جن یہودیوں کو جان بچانے کے لیے وہاں سے بھاگنے کا موقع ملا، اُن میں سے کچھ نے تو مراکش میں جا کر پناہ لی اور کچھ اوپر یورپ کی طرف نکل گئے، لیکن وہاں بھی اُن کے لیے زمین تنگ تھی۔
یہودیوں نے جنیوا اور لندن ہی نہیں، نیویارک اور واشنگٹن پر بھی سخت گرفت قائم کر لی، جس کا اندازہ اِس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ مغرب کی سیاست، معیشت، تجارت، صنعت، عسکری منصوبوں، اخبارات و رسائل، یہاں تک سامانِ تفریح، یعنی فلمز اور ڈراموں پر بھی یہودیوں کی بڑی حد تک اجارہ داری قائم ہو گئی۔ کتابوں کے ڈھیر ہیں، جن میں یہودی فکر کا عکس نمایاں ہے۔
جب یہودیوں کو بازنطینی اور رومن سلطنت سے ہمیشہ کے لیے نکال دیا گیا، تو بہت تھوڑے یہودی فلسطین میں مقیم رہے،باقی سب تتّر بتّر ہو کر دنیا میں ٹھکانے ڈھونڈنے لگے۔ اُس وقت بھی مسلمان سلطنتوں میں اُنہیں پناہ، آزادی اور سارے انسانی حقوق ملے۔ یورپ کا تعلق رومن کیتھولک عیسائی مذہب سے تھا اور وہاں کے عیسائی اِن سے سخت نفرت کرتے تھے۔
جو یہودی قرونِ وسطیٰ میں یورپ گئے، وہاں اُن کو منڈیوں میں آزادانہ تجارت کے مواقع نہیں ملتے تھے، لیکن یہ قوم پیسا کمانے کی ماہر ہے۔ اُنہوں نے’’لنڈے‘‘ کا کاروبار شروع کر دیا۔ پرانے، استعمال شدہ کپڑے خریدتے اور مرمّت(recycling) کر کے اُنھیں فروخت کر دیتے۔
دوسرا کام جس سے وہ پیسے کماتے تھے، ضرورت مند افراد کی چیزیں ایک خاص اضافی رقم کے ساتھ رہن رکھ لیتے۔ لفظ’’Banca‘‘اٹلی ہی سے متعارف ہوا اور اس نے انگریزی میں’’Bank‘‘کی شکل اختیار کر لی۔ فلورنس، وینس اور جنیوا جیسے بڑے شہروں میں ایسے بہت سے بینک تھے۔ ایک میز پر سبز کپڑا بچھا کر اُس پر جو لین دَین کیا جاتا، اُسے’’ Banca‘‘کہا جاتا تھا اور یہودی ایسے بہت سے بینک چلاتے تھے۔
مارٹن لوتھر نے سولھویں صدی کے ابتدائی عرصے میں پوپ کی کرپشن اور اخلاقی پستی کے خلاف جو احتجاجی آواز اُٹھائی تھی، یہودیوں نے اُسے پوپ کی بجائے رومن کیتھولک عقیدے کے خلاف موڑ دیا اور یوں پروٹیسٹنٹ عقیدے کی بنیاد پڑ گئی۔ مغربی دنیا کا غالب حصّہ اِس نئے عقیدے کا پیروکار بن گیا۔عیسائیت میں چار کتابوں پر مشتمل بائبل پر اکتفا کرنے کی بجائے تورات کو’’عہدنامۂ قدیم‘‘ کے نام سے بائبل کا حصّہ بنا دیا گیا اور عیسائیوں نے یہودی دانش کو اپنا رہنما بنا لیا۔ اِس وقت عیسائیوں کی قیادت حقیقت میں یہودیوں (اسرائیل) کے ہاتھ میں ہے۔
رومن کیتھولک عیسائی، حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو مسیحا مانتے ہیں، لیکن پروٹسٹنٹ عیسائیوں کا یہودیوں کی پیروی میں عقیدہ ہے کہ ہیکلِ سلیمانی کی تیسری بار تعمیر اُس وقت ہو گی، جب اصل مسیحا کا ظہور ہو گا۔ تحریکِ احیائے علوم کے نتیجے میں جب جرمنی اور اِٹلی کے معاشرے میں مذہب پر مادّہ پرستی اور دنیاداری غالب آ رہی تھی، تو اُس ماحول میں یہودی بہت متحرّک تھے۔ وہ عبرانی زبان و ادب کے فروغ اور تورات کی تعلیمات و تاویلات میں سرگرم تھے۔
اُن کے تعلیمی اداروں میں ریاضی، طِب، دواسازی، مصوّری، مجسمہ سازی اور فنِ تعمیر جیسے نظر آنے والے فنون کے علاوہ تورات کی تاویلیں بھی سِکھائی جاتی تھیں۔ یہودی ایک دولت پرست قوم ہے۔ سود، حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کی شریعت میں بھی اُسی طرح حرام ہے، جس طرح اسلامی شریعت میں ہے، لیکن یہودی ہمیشہ کھلے عام سودی کاروبار کرتے تھے، یہاں تک کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السّلام صلیب پر لٹکانے کا فیصلہ ہونے سے پہلے ناصریہ سے یروشلم آئے، تو وہ ’’عید الفصح‘‘ch) (Pesaکا دن تھا۔
ہیکل کے آس پاس بازار سجے ہوئے تھے۔ ’’منی چینجر‘‘ جگہ جگہ میزیں بچھائے ہیکل کے سائے میں سُود پر پیسے دے رہے تھے اور اضافی وصولی کے ساتھ کرنسی تبدیل کر رہے تھے۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے ہیکل کی یہ بے حُرمتی دیکھی، تو ٹھوکروں سے اُن کی میزیں اُلٹ دیں۔ پندرہ سو دس کے اواخر اور پندرہ سو گیارہ عیسوی کے اوائل میں مارٹن لوتھر نے جو’’تحریکِ اصلاح‘‘شروع کی، وہ پوپ کی بدکرداری اور بدعنوانی کے خلاف تھی اور پوپ کے خلاف لوگوں میں جو جذبات اُبھرے، یہودیوں نے بڑی مہارت سے اُن کا رُخ رومن کیتھولک مذہب کی طرف موڑ دیا۔
یوں عوامی نفرت پوپ کی بجائے مذہب ہی کے خلاف ہو گئی۔ پھر سینٹ پال نے تو عیسائیت کا ڈھانچا اور بہت سے عقائد اپنی مرضی سے بدل دیئے۔ مارٹن لوتھر کے’’پروٹیسٹ‘‘ کو یہودیوں نے باقاعدہ ’’پروٹیسٹنٹ عیسائیت‘‘ کا عقیدہ بنا دیا۔ پوپ ازم اور جاگیرداری کی جگہ، سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism)نے لے لی۔ یہ نظام دولت، جسمانی لذّتوں، عیش و نشاط اور دنیا پرستی (Materialism)سے عبارت ہے۔
پچھلے کم و بیش دو، ڈھائی ہزار سال کی تاریخ یہودیوں کی تخریب، فتنہ خیزی، شرپسندی اور سازشوں سے بَھری پڑی ہے۔ دنیا میں جنگیں بھڑکانے کے علاوہ اخلاقی بگاڑ اور فساد اِن کا خاص مشن رہا ہے۔ جیفرے ایپسٹین بھی ایک یہودی تھا اور اُس نے کم عُمر بچیوں کے ساتھ حیوانیت کا جو مربوط نظام قائم کیا، اُس کا دائرہ اِتنا وسیع ہے کہ جو فائل کُھلتی ہے، کسی نہ کسی بڑی شخصیت کے اُس کے ساتھ تعلقات نکلتے ہیں۔ ناروے کی شہزادی میٹے میرٹ( Mette Marit) کا تازہ بیان شائع ہوا ہے کہ’’ مجھے جیفرے ایپسٹین کے ساتھ تعلقات پر سخت پچھتاوا ہے۔‘‘امریکی عیسائیت، اسرائیلی صیہونیت میں ڈھل گئی ہے۔ اب کُھلم کُھلا’’ Zionist Christianity‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔
یہ عیسائیت اب امریکا میں یہودی صیہونیت کی نمائندہ تنظیم’’ Zionist Organization of America‘‘ کے تابع ہے۔ 1492عیسوی میں اندلس سے مسلم سلطنت کے خاتمے کے سال ہی ایک یہودی سیّاح، کرسٹوفر کولمبس نے اُس سرزمین کو دریافت کیا، جسے اب’’ ریاست ہائے متحدہ امریکا‘‘ کہا جاتا ہے اور جو دنیا کی واحد سُپر پاور ہے۔
متعدّد یہودی خاندانوں نے امریکا کی آزادی سے 122سال پہلے، یعنی1654 عیسوی میں نیویارک میں سکونت اختیار کر لی تھی اور اپنے کاروبار مستحکم کر کے بہت دولت مند ہو گئے تھے۔ بہت بڑے سرمایہ دار یہودی، ہیم سولومن( Haym Solomon )نے امریکی جنگِ آزادی کے تمام اخراجات اپنے ذمّے لے لیے تھے۔ اُسے اب بھی جنگِ آزادی کا مالیاتی ہیرو کہا جاتا ہے۔
آزادی کے بعد یہودیوں نے پروٹیسٹنٹ عیسائیت پر اِتنے گہرے اثرات مرتّب کیے کہ یہ یہودیت کا نقشِ ثانی بن گئی اور امریکا حقیقت میں یہودیوں کی ایک کالونی بن گیا۔ یہودیوں نے امریکا کو’’سرزمینِ موعود‘‘کا متبادل سمجھ کر جنگِ آزادی میں حصّہ لیا تھا۔ یہودی لابنگ کے ماہر ہیں۔ قدیم، پُراسرار تنظیموں کے علاوہ اُنہوں نے جدید طرز پر اپنی انتہائی متحرّک تنظیمیں قائم کر رکھی ہیں۔
جیوش فیڈریشن آف نارتھ امریکا، ایک سو چھیالیس یہودی تنظیموں کی فیڈریشن ہے۔کوئی امریکی صدر اسرائیل کی خوش نُودی اور یہودی تنظیموں کی حمایت کے بغیر منتخب نہیں ہو سکتا۔ سینیٹ اور کانگریس کے ارکان کو بھی یہودیوں کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ پال فنڈلے بائیس سال تک امریکی کانگریس کے رُکن منتخب ہوتے رہے،لیکن جب 1985ء میں اُن کی کتاب’’ Dare to Speak out: People and Institutions Confront Israeli Lobby‘‘شائع ہوئی، اُس کے بعد وہ کبھی کانگریس کے رُکن منتخب نہ ہو سکے۔
علّامہ اقبالؒ نے جب کہا تھاکہ ؎’’تری دوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں… فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے‘‘ اُس وقت لیگ آف نیشنز کا مرکزی دفتر جنیوا میں تھا اور اصل فیصلے لندن میں ہوتے تھے۔ علامہؒ کی وفات کے سات سال بعد لیگ آف نیشنز کا باب بند کر کے امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ، برطانوی وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل اور روسی آمر جوزف اسٹالن نے ایک نئے عالمی ادارے’’ تنظیمِ اقوامِ متحدہ‘‘ (UNO)کی تشکیل کا منصوبہ پیش کیا۔ لندن کی جگہ واشنگٹن نے لے لی اور جنیوا کی جگہ نیویارک نے۔
عالمی مسائل کا حل اِنہی بڑی قوّتوں کا محتاج ہو گیا، جنہوں نے اقوامِ متحدہ کا منصوبہ بنایا تھا اور اپنے لیے ویٹو کا حق مقرّر کرلیا تھا۔ یہودی، امریکی پالیسیز کی تشکیل کرتے ہیں اور اس عالمی ادارے پر بھی حاوی ہیں۔ اسرائیل اِس ادارے کی کسی قرارداد کو قبول نہیں کرتا، جب کہ خود امریکا نے اس ادارے کی دھجیاں بکھیر رکھی ہیں، یہاں تک کہ صدر ٹرمپ تو اِسے مانتے ہی نہیں ہیں۔ تو کیا علّامہ صاحب کا کہا سو فی صد درست ثابت نہیں ہو رہا۔ (مضمون نگار، لگ بھگ 40 برس تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے۔ معروف مذہبی اسکالر اور کئی کتب کے مصنّف ہیں)