کراچی (اسٹاف رپورٹر) اپوزیشن لیڈر کےایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے ٹائون چئیرمینوں کے ہمراہ ایم ڈی سندھ سالڈ ویسٹ سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ سالڈ ویسٹ کا نظام ٹائون اور یوسی کے حوالے کیا جائے، موجودہ نظام مکمل طور پر قانون کے خلاف چلایا جارہا ہے2014 کے ایکٹ کو مکمل طور ختم کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ نجی کمپنیوں سے معاہدوں میں گھروں سے کچرہ لینا، گلیوں کی صفائی کرنا یہ سب معاہدہ کا حصہ ہے،بطور بورڈ کے سربراہ میئر کراچی مرتضی وہاب نظام چلانے میں ناکام ہیں اس ادارے کو ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے،شہر کے تمام نالے، پچھلی گلیاں کچرے سےبھری ہوئی ہیں اگر صورتحال فوری بہتر نہ ہوئی تو اس تحریک کو آگے برھائیں گے، دریں اثنا سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے اعلامیے کے مطابق منیجنگ ڈائریکٹر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ طارق علی نظامانی نے اپوزیشن لیڈرسٹی کونسل کو ادارے کی کارکردگی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صفائی کے نظام میں مزید بہتری کے لئے اقدامات کررہے ہیں عیدالاضحی ٰسے قبل مسائل کے حل کے لئے وسائل اور عملے کی حاضری یقینی بنانے کے لئے کمپنیز کو ہدایت جاری کردی گئی ہیں، جن کمپنیز کی کارکردگی اچھی نہیں ہے انہیں شوکاز نوٹس بھی دئیے گئے ہیں مزید پابند کیا جا رہا ہے کہ عملے کی کمی کو جلد سے جلد پوری کریں، انہوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پرٹاؤنز چیئرمین ٹاؤن کی سطح پر اجتماعی قربان گاہ بنائیں اور لوگوں کو آگاہی دیں کہ وہ ان پوائنٹس پر جانوروں کی قربانی کریں، انہوں نے مزید کہا کہ ٹاؤنز چیئرمین کچرا گلی محلے اور نالوں میں پھینکنے والے افراد کو نوٹس جاری کریں اور عملدرآمد نہ ہونے پر جرمانے عائد کریں یہ اختیار ٹاؤن چیئرمین کا ہے، سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ شہر کی صفائی معیار کے مطابق یقینی نہیں بنائی جا رہی، معاہدے میں ایسا قانون ہونا چاہئے کہ ٹاؤن انتظامیہ کوتھرڈ پارٹی مانیٹرنگ بنایا جائے اور ٹاؤن انتظامیہ کی تصدیق کے بغیر کمپنی کو ادائیگی نہ کی جائے۔