کراچی( اسٹاف رپورٹر )وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیر صدارت سندھ میں ریسکیو اور ایمرجنسی سروسز کی تنظیم نو اور بہتری پر غور وخوض سے متعلق اعلی سطح کی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا ، وزیر داخلہ نے اجلاس سے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ صوبے میں ریسکیو کے تمام ادارے ایک چھتری تلے کام کریں تاکہ وسائل کا بہترین استعمال یقینی بنایا جا سکے اور ہنگامی حالات میں فوری اور مؤثر ردعمل ممکن ہو،انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایک خودمختار ریسکیو اتھارٹی قائم کی جائے جو تمام متعلقہ اداروں کو ایک مرکزی نظام کے تحت منظم کرے اور اسی اتھارٹی کے ذریعے تمام ریسکیو سرگرمیاں انجام دی جائیں ،اجلاس کے دوران سیکریٹری بحالیات نے صوبے میں جاری ریسکیو اقدامات، درپیش چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی،وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ مجوزہ ریسکیو اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے سفارشات جلد از جلد مرتب کر کے کمیٹی کو ارسال کی جائیں جس کے بعد انہیں وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کیا جائے گا، وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے اتھارٹی کے لیے مؤثر ایس او پیز ترتیب دینے کی ضرورت پر زور دیامیئر کراچی نے ون ونڈو آپریشن کے تحت اتھارٹی کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پروکیورمنٹ اور ریکروٹمنٹ کے عمل کو مرکزی حیثیت دی جائے اور تمام امور حکومت سندھ کے تحت منظم انداز میں انجام دیے جائیں،مشیر وزیر اعلیٰ سندھ برائے بحالی گیان چند اسرانی نے اس بات پر زور دیا کہ ریسکیو اور ریلیف کے کام کو باہمی تعاون اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ انجام دینا ہوگا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔