کراچی (رفیق مانگٹ) نیپال کا سب سے کم عمر وزیرِ اعظم’’بالنڈرا شاہ‘‘ریپر سے سیاستدان تک، نوجوان آئیکون کی غیر معمولی ترقی، کھٹمنڈو سے کرناٹک تک کا تعلیمی سفر،موسیقی نے عوامی بیانیہ بنایا، ٹائم میگزین نے ایشیا میں سیاست کے نئے نوجوان آئیکون کا خطاب دیا، شہری ایڈمنسٹریشن میں شاندار کارکردگی، بھارت سے تعلقات، تعاون کے اشارے اور تعلیمی روابط، ماضی کے متنازع بیانات، گریٹر نیپال اور قوم پرست سیاست، بالنڈرا پرساد شاہ، جنہیں عوامی سطح پر بالن شاہ کے نام سے جانا جاتا ہے، 2026میں نیپال کے تاریخ کے سب سے کم عمر وزیرِ اعظم بنے۔ وہ ایک انجینئر، ریپر، شہری ایڈمنسٹریٹر اور نوجوان سیاسی تحریک کے علامتی رہنما ہیں۔دنیا کے معتبر میڈیا میں وہ جنریشن زی کی نمائندہ سیاست کا چہرہ ہے۔ 35 سالہ بالنڈرا شاہ 27 اپریل 1990ء کو نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں پیدا ہوئے ۔ وہ ایک مائتھلی مادھیشی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کے والد رام نارائن شاہ ایک آیورویدک معالج تھے جو دسمبر 2025ء میں انتقال کر گئے، جبکہ والدہ کا نام دھروادیوی شاہ ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کھٹمنڈو کے وی ایس نکیتن ہائر سیکنڈری اسکول سے حاصل کی۔ اس کے بعد ہمالین وائٹ ہاؤس انٹرنیشنل کالج سے سول انجینئرنگ میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی ۔ مزید تعلیم کے لیے انہوں نے بھارت کا رخ کیا اور کرناٹک کی وِشویشورایا ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی سے ا سٹرکچرل انجینئرنگ میں ماسٹرز کیا ۔ اپنے کیرئیر کا آغاز انہوں نے ایک ریپر کے طور پر کیا۔ 2012 میں ان کا پہلا سنگل Sadak Balakریلیز ہوا، لیکن شہرت 2013 میں یوٹیوب کی ریپ بیٹل سیریز ʼرا بارزʼ میں شرکت کے بعد ملی ۔ ان کی موسیقی میں معاشرتی ناہمواری، بدعنوانی اور سیاسی تبدیلی کے خیالات نمایاں تھے ۔ان کی موسیقی نے انہیں عوامی بے چینی اور نوجوان طبقے کی آواز بنا دیا۔