کراچی (اسٹاف رپورٹر) انسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللّٰہ قتل کیس میں سابق ایس ایچ او سمیت دیگر ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا،ملزمان میں سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت، گدا حسین، صداقت حسین، ریاض احمد ، راجا شمیم اور محسن عباس شامل ہیں، فرزانہ متین ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ گرفتار پولیس اہلکاروں کے خلاف ایک بھی گواہ نے بیان نہیں دیا کہ مقابلہ جعلی تھا، کیس حتمی دلائل میں داخل ہونے کے بعد پراسیکیوشن نے اپنی سائیڈ اوپن کرنے کی استدعا کردی، عدالت نے پراسیکیوشن کی درخواست منظور کرلی ، عدالت نے کہا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے سائیڈ اوپن ہونے کے بعد ملزمان کو لمبے عرصے تک جیل میں نہیں رکھا جاسکتا، پراسیکیوشن کے مطابق مقدمہ میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت 18 پولیس افسران و اہلکاروں کو بری کیا جاچکا ہے، مقدمہ میں سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت سمیت 7 پولیس افسران و اہلکار مفرور تھے، ساتوں مفرور ملزمان نے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے بعد خود کو سرینڈر کیا تھا، ملزم شعیب شوٹر ضمانت جبکہ امان اللہ مروت سمیت 6 ملزمان گرفتار ہیں، پراسیکیوشن کا کہنا تھا کہ نقیب اللہ کو جنوری 2018 میں پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا، نقیب اللہ قتل کیس میں نامزد ملزمان کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔