• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا میں ہر 127 میں سے ایک بچہ آٹزم کا شکار ہے، عالمی ادارہ صحت

کراچی (اسٹاف رپورٹر) آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں عالمی یومِ آگاہی برائے آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر کے موقع پر منعقد میڈیا راؤنڈ ٹیبل میں ماہرین نے اس امر پر زور دیا ہے کہ پاکستان میں آٹزم کے شکار بچوں کے لیے بروقت تشخیص، خاندان پر مبنی نگہداشت اور کمیونٹی سطح پر مربوط حکمتِ عملی ناگزیر ہے، جبکہ تاخیر سے تشخیص اور آگاہی کی کمی بڑے چیلنجز ہیں، “ری تھنکنگ آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر سپورٹ” کے عنوان سے منعقدہ نشست میں پروفیسر شہناز ابراہیم، سیکشن ہیڈ پیڈیاٹرک نیورولوجی نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ صرف دیر سے تشخیص نہیں بلکہ اس موضوع پر خاموشی ہے، والدین اکثر مناسب معلومات اور معاونت کے بغیر رہ جاتے ہیں، ڈاکٹر سدرا کلیم، ایسوسی ایٹ پروفیسر پیڈیاٹرک نیورولوجی نے زور دیا کہ ابتدائی مداخلت نتائج کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتی ہے اور اس کے لیے خاندان، اسکول اور کمیونٹی کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا، عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہر 127 میں سے ایک بچہ آٹزم کا شکار ہے۔

شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید