ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے فاطمہ جناح کالونی سمیت دیگر رہائشی کالونیوں میں بلڈنگ پیریڈ کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے عائد کرنے کا معاملہ شدت اختیار کر گیا، شہری غم و غصے اور تشویش میں مبتلا، ذرائع کے مطابق ایم ڈی اے نے جن جرمانوں کا اطلاق کیا ہے، ان کی بنیاد 2010 میں ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن پر رکھی گئی ہے،نوٹیفکیشن کے تحت بلڈنگ پیریڈ ختم ہونے کے بعد ابتدائی پانچ سال تک پانچ مرلہ پلاٹس پر ایک ہزار روپے فی مرلہ، دس مرلہ تک دو ہزار روپے فی مرلہ جب کہ ایک کنال اور اس سے بڑے پلاٹس پر بارہ ہزار روپے سالانہ جرمانہ مقرر کیا گیا تھا، مزید برآں پانچ سال گزرنے کے بعد پہلے سال پانچ ہزار روپے فی مرلہ، دوسرے سال چھ ہزار روپے فی مرلہ جب کہ تیسرے سال سے دس ہزار روپے فی مرلہ اضافی سرچارج عائد کرنے کی شق بھی شامل ہے،تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایم ڈی اے حکام نے ان واضح قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے جے بلاک فاطمہ جناح کالونی میں پلاٹ مالکان پر بلڈنگ پیریڈ ختم ہوتے ہی پہلے سال میں براہ راست دس ہزار روپے فی مرلہ اضافی سرچارج نافذ کر دیا، جو کہ مقررہ طریقہ کار کی کھلی خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہے، مزید انکشاف ہوا ہے کہ جے بلاک کی تمام ملکیت جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے پاس ہے اور پلاٹس کی ٹرانسفر کے مکمل اختیارات بھی اسی ادارے کے پاس رہے ہیںاور جے بلاک کے تمام ترقیاتی اخراجات بھی جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے خود برداشت کیے تھے، متاثرین کا مؤقف ہے کہ ان حقائق کے باوجود ایم ڈی اے کی جانب سے بلڈنگ پیریڈ اور اضافی سرچارج کا اطلاق نہ صرف غیر قانونی بلکہ اختیارات سے تجاوز ہے، کیونکہ ایم ڈی اے اس بلاک کے پلاٹس کی اصل اتھارٹی نہیں،شہری حلقوں نے حکومت پنجاب، کمشنر ملتان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، جرمانوں کے نفاذ کا جائزہ لیا جائے، بلڈنگ پیریڈ میں رعایت دی جائے اور بلاجواز عائد کردہ اضافی سرچارج کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔