کراچی (رفیق مانگ) امریکا کی موجودہ شرائط قبول نہیں، اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات نہیں کریں گے، ایران کا باضابطہ اعلان، ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی کوششیں ناکام، امریکی اخبار نے بتایا اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات نہیں کی جائیگی اور امریکہ کی موجودہ شرائط قبول نہیں، تہران کا باضابطہ اعلان، فرانسیسی نیوز سائٹ کا کہنا ہے دوحہ اب مذاکرات میں پیش قدمی کر رہا ہے، تہران کی رائے میں پاکستان کے بااثر حلقے ٹرمپ ایلچی وٹکوف کے قریبی, ممکنہ طور پر غیرجانبدار نہیں،تہران کو بھارتی سفارت کاروں کی خاموش حمایت بھی حاصل جو ایرانی تیل کو محفوظ بنانے کے خواہاں ہیں، بھارت کی بھی زیادہ خواہش نہیں کہ ان کا حریف علاقائی امن کا ضامن بنے۔ پاکستانی سفارت کار مکمل طور پر مذاکرات سے خارج نہیں، پاک فوج کے قریبی سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد عامر دوحہ میں رابطے میں رہیں گے۔ سفیر محمد عامر قطر میں مذاکراتی ٹیم کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھیں گے، ترکی اور مصر نئی جگہوں اور تجاویز کے ذریعے مذاکرات کی بحالی کی کوششیں کر رہے ہیں، قطر اور استنبول ممکنہ مذاکراتی مقامات ہیں۔ امریکی اخبار کے مطابق پاکستان کی قیادت میں علاقائی ممالک کی جانب سے امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان جنگ بندی کے لیے کی جانے والی تازہ ثالثی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پاکستان کی قیادت میں علاقائی ثالثوں کی کوششیں، جو امریکہ اور ایران کے درمیان فوری جنگ بندی کے لیے کی جا رہی تھیں، فی الحال ناکام ہو گئی ہیں۔ ثالثوں نے جمعہ کو بتایا کہ ایران نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات نہیں کرے گا اور امریکہ کی موجودہ شرائط قبول نہیں کرتا۔ مذاکرات کے دیگر فریق، ترکی اور مصر، اب بھی حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور نئی جگہوں پر مذاکرات کے امکانات پر غور کر رہے ہیں، جن میں قطر کا دارالحکومت دوحہ اور استنبول شامل ہیں۔ ثالثوں کے مطابق، نئی تجاویز اور فارغ راستوں کے ذریعے مذاکرات کے تعطل کو دور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف فرانسیسی نیوز سائیٹ نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے پاکستان کی ثالثی کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ تہران کا ماننا ہے کہ پاکستان کے بااثر حلقے جو کئی دہائیوں سے ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے قریبی رہے ہیں، ممکنہ طور پر کافی غیرجانبدار نہیں ہیں۔خطے میں جاری تنازع کی صورتحال سے متعلق میڈیا رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے اپنے بیان میں کہا کہ "ہم نے میڈیا بشمول سوشل میڈیا پر کئی ایسی رپورٹس دیکھی ہیں جن میں خطے میں جاری تنازع اور امن و مذاکرات کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کے حوالے سے نام نہاد ʼسرکاری ذرائعʼ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ہم مبینہ سرکاری ذرائع سے منسوب ان جھوٹے اشاروں اور کنایوں کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں؛ یہ بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ اس سلسلے میں سرکاری ذرائع سے منسوب کوئی بھی بات غلط ہے۔ یہ بات تشویشناک ہے کہ جمعہ کے روز وزارتِ خارجہ میں ہونے والی بریفنگ کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا ہے اور ایسے معاملات کا حوالہ دیا گیا ہے جن پر نہ تو کوئی بات ہوئی اور نہ ہی ان کا کوئی تذکرہ کیا گیا تھا۔خطے کی حساس صورتحال کے اس وقت میں، سفارت کاری احتیاط اور ذمہ داری دونوں کا تقاضا کرتی ہے۔ لہٰذا، ہم تمام میڈیا پلیٹ فارمز سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور درست و بروقت معلومات کے لیے صرف سرکاری طور پر جاری کردہ بیانات اور میڈیا ریڈ آؤٹس (Media Readouts) پر بھروسہ کریں۔" قبل ازیں امریکی اخبار کے مطابق پاکستانی تجویز کو ناکام بنانے کے لیے، تہران کوبھارتی سفارت کاروں کی خاموش حمایت بھی حاصل ہے جو ایرانی تیل کو محفوظ بنانے کے خواہاں ہیں اور جن کی بھی زیادہ خواہش نہیں کہ ان کا حریف علاقائی امن کا ضامن بنے عملی طور پر، دوحہ اب دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات میں پیش قدمی کر رہا ہے، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ قطری سفارت کاری، جس کی قیادت محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کر رہے ہیں۔