کراچی (رفیق مانگٹ) سابق وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف راہم ایمینوئل نے کہا کہ نیتن یاہو نے بل کلنٹن، باراک اوباما، جارج بش اور جو بائیڈن سمیت ہر صدر سے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کی درخواست کی، مگر تمام صدور نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد انکار کیا، اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرانا امریکی صدر کی آئینی ذمہ داری سے فرار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرانا دراصل امریکی صدر کی ذمہ داری سے انکار کے مترادف ہے۔ ان کا مزید کہنا تھاامریکاکا نظام یہ ہے کہ صدر منتخب ہوتا ہے، بائبل پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھاتا ہے اور کمانڈر ان چیف بنتا ہے۔ فوجیوں کی جانوں کا فیصلہ وہی کرتا ہے۔ اب دو بچوں کے باپ، جن کے سات ماہ کے جڑواں بچے ہیں، کبھی اپنے والد کو نہیں دیکھیں گے۔ ان کے گھر میں ایک کرسی ہمیشہ خالی رہے گی۔ یہ فیصلہ صدر کا ہے، کسی اور کو مورد الزام ٹھہرانا بے معنی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر امریکی صدر نے ایران کے خلاف جنگ کے خطرات کا جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کہ یہ امریکی قومی مفاد میں نہیں۔