• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی سفارت کاری نے بھارت کو پس منظر میں دھکیل دیا، فارن پالیسی

کراچی (رفیق مانگٹ ) امریکی جریدے فارن پالیسی کے مطابق چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای اور اسحاق ڈار کے بیجنگ میں مذاکرات کے بعد جاری پانچ نکاتی امن منصوبے نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ ایران جنگ کے معاملے میں پاکستان تیزی سے ایک مؤثر ثالث کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہےاور یہی پیش رفت بھارت کے لیے نمایاں پسپائی کا باعث بن رہی ہے۔فارن پالیسی کے مطابقپاکستان کی سفارت کاری نے بھارت کو پس منظر میں دھکیل دیا، اگر پاکستان ثالثی میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ مودی کے اُس بیانیے کے لیے واضح ناکامی ہے جس میں بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کی ۔بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان کیخلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے تھے جو دراصل اس کے بڑھتے ہوئے احساسِ بے دخلی کی عکاسی کرتا ہے۔ ٹرمپ کی نظر میں یہ کردار اہلیت کی علامت سمجھا جا رہا ہے، اور فیلڈ مارشل ، آرمی چیف عاصم منیر کو وہ ایسا مؤثر رابطہ کارتصور کرتے ہیں جن تک ان کی براہِ راست رسائی ہے۔ اس کے برعکس بھارتی وزیراعظم مودی کو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال پر صرف ایک فون کال موصول ہوئی وہ بھی ایلون مسک کی موجودگی میں۔ اسلام آباد نے خود کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان "غیر جانب دار ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ اگرچہ ابھی تک کوئی بڑا نتیجہ سامنے نہیں آیا، لیکن پاکستان اسے رابطوں کے چینل کو وسیع کرنے کا عملی طریقہ قرار دے رہا ہے۔

اہم خبریں سے مزید