کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے صوبے بھر کی عدالتوں میں زیر التواء قتل کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عدالتوں میں زیر التواء1761 قتل کیس تیزی سے نمٹانے اور 2023 تک درج قتل کے تمام زیر التواء مقدمات 3 ماہ میں نمٹانے کا حکم دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق صوبے میں زیر التواء قتل کیسز میں اضافے سے متعلق ممبر انسپکشن ٹیم نے سیشن ججز کو خط لکھ دیا۔ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ کیس مینجمنٹ سسٹم کے مطابق مختلف اضلاع میں قتل کے پرانے مقدمات کی بڑی تعداد زیر التواء ہے۔ سال 2023 تک مجموعی طور پر 1761 قتل کے مقدمات ابھی تک نمٹائے نہیں جاسکے۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کا حکم دیا ہے۔