• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پتھر کے زمانے میں لوٹائے جانے کی دھمکی جنگی بربریت پر فخر

تحریر…عیسیٰ زادہ

قونصل جنرل ایران۔ کراچی

جمعرات تین اپریل کی صبح امریکی صدر نے ایران کے خلاف بلاجواز و غیرقانونی جارحیت کا ایک ماہ گزر جانے پر امریکی قوم سے اپنے پہلے خطاب کے دوران ایران پر مسلط کردہ جنگ کے نتائج کے متعلق بے بنیاد دعوے کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر یہ دعوی کیا کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکی حملے جاری رہیں گے اور اس صورت میں امریکہ ایران کے تمام پاور پلانٹس پر شدید حملے کرے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نےگذشتہ ایک ماہ کے دوران ایران کے خلاف اس عسکری جارحیت کے خاتمے کے لیے متعدد اہداف اور ٹائم لائنز مقرر کی ہیں۔ مذکورہ بالا خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ آیندہ آنے والے دو سے تین ہفتوں میں ایران کے خلاف مزید حملے بھی کیے جائیں گے۔اس خطاب کا ایک جملہ در حقیقت جنگی ظلم و بربریت کا کھلم کھلا اعتراف ہے جس میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم ایران پر اتنے شدید حملے کریں گے کہ ایران پتھر کے زمانے میں پہنچ جائے گا۔ ٹرمپ کے اس انداز گفتگو سے پتا چلتا ہے کہ درحقیقت وہ خود بھی پتھر کے زمانے کے وحشی ترین لیڈرز میں سے ہے۔ پتھر کے زمانے کے لیڈرز کا ہی یہ ماننا تھا کہ ابتدائے آفرینش سے لے کر علوم و فنون، یونیورسٹیز اورتعلیمی و صنعتی مراکز، اسٹیل ملز سے کینسر کی ویکسین اور ادویہ سازی کے کارخانے اور پلوں تک ہر وہ چیز یا ھر وہ شخص جو ان کے حیطہ قدرت میں نہیں ہے اسے نیست و نابود ہوجانا چاہیے۔امریکہ و صیہونی رجیم کی مشترکہ جنگی حکمت عملی کو عالمی طاقت کے حصول کے نئے نقشے کے تحت ترتیب دیا گیا ہے اور اس میں ایران کے خلاف جنگی اہداف کو تین مراحل میں تشکیل دیا گیا ہے۔ امریکہ اور صیہونی رجیم کی اس بلاجواز جارحیت کا اصلی ھدف ایران پر غلبہ حاصل کرنا ہی ہے لیکن اس ھدف تک پہنچنے کے لیے درمیانے درجے کا ہدف یہ ہے کہ ایران کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا جائے۔ پھر ایک نچلے درجے کا ہدف بھی مدنظر ہے اور وہ یہ کہ ایران کا انفراسٹرکچر تباہ و برباد کر دیا جائے۔حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ملت ایران کے عظم الشان عسکری دفاع اور قومی بیداری کی بدولت اصلی اور درمیانے درجے کے اہداف کا حصول ممکن نہ ہو سکا اور یہ جنگ صرف نچلے درجے کے ہدف یعنی انفراسٹرکچر کی نابودی و بربادی تک محدود رہی گئی۔ چنانچہ اس ہدف کے تحت مدنظر یہ ہے کہ ایران کو غزہ کی مانند رہنے کے قابل نہ چھوڑا جائے کہ شاید اس طرح ایران پر قبضہ کر لینے کی امید بر آئے۔یقینا ایران پتھر کے زمانے کی طرف نہیں لوٹایا جا سکتا۔ سرزمین ایران کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ ملک ہمیشہ مختلف بحرانوں میں سرخرو و کامیاب رہا ہے۔ تہذیبی تسلسل، قومی بیداری و ہم آہنگی، اپنی عسکری صلاحتیوں پر انحصار اور ایک قوم ہونے کا یقین ہی وہ اہم عناصر ہیں جن کے سبب ایران قائم و دائم ہے اور یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اس عظیم ملت کو بمباری کے ذریعے صفحہ ہستی سے محو کیا جانا ناممکن ہے۔ ایران کی تہذیب ہمیشہ باقی اور درخشان رہے گی۔ یہ پریشانی امریکا کو لاحق ہونی چاہیے کہ کس طرح امریکی سوچ و فکر کو اکیسویں صدی سے پتھر کے زمانے کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ٹرامپ اور اس کے سیکرٹری جنگ نے ایران کے لیے پتھر کے زمانے میں لوٹائے جانے کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ عسکری ادبیات میں اس سے مراد یہ ہے کہ کسی ملک کی انفرااسٹرکچر ( بجلی، پانی، مواصلات، سٹرکوں اور ہسپتالوں ) کو بنا کسی روک ٹوک کے منظم انداز میں نابود کیا جائے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا جنگی قوانین و ضوابط کی کس طرح دھجیاں اڑا رہا ہے۔ بیشک امریکی صدر کے اس طرح کے بیانات اور دیگر دھمکیاں بین الاقوامی قانون اور جنگ کے اصولوں سے مکمل تصادم رکھتے ہیں۔ جنیوا کنونشن میں تصویب شدہ اور اس کے ضمیمہ شدہ قوانین و ضوابط کے تحت بین الاقوامی سطح پر تناسب کے اصولوں کی رعایت کرنا ضروری ہے۔ ان اصولوں کا تقاضا یہ ہے کہ عسکری حملوں کے دوران عام شہریوں اور انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچانے سے گریز کیا جائے اور ایسا کرنا کسی بھی بلاواسطہ عسکری مفادات کے تحت درست نہیں ہے۔ پتھر کے زمانے کی طرف لوٹائے جانے کی اصطلاح کا مطلب ہی بڑے اور وسیع پیمانے پر تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ محدود عسکری مفادات کے لیے کئی ملین آبادی والے ملک کے بنیادی ڈھانچے کی وسیع پیمانے پر تباہی واضح طور پر غیر مناسب، بلاجواز اور غیرقانونی عمل ہے۔ واضح الفاظ میں یہ کہنا بجا ہے کہ کسی ملک کے بنیادی ڈھانچے کو اس طرح نقصان پہنچانا جنیوا کنونشن کے پروٹوکول کے آرٹیکل نمبر ۵۴ سے واضح تصادم رکھتا ہے کہ جس کے تحت ایسی املاک کو نقصان پہنچانے سے گریز کیا جائے جس سے شہریوں کی بقا وابستہ ہو۔ امریکی صدر کا"ایران کو پتھر کے زمانے میں واپس لوٹانے" کا بیان صرف سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ اس کی عالمی آئیڈیالوجی کا انعکاس اور جنگی جنایات اور بربریت کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ کل دنیا کے حکمران غزہ کے خلاف خاموش اور ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے تھے اور آج ایران کے خلاف اس بربریت پر چپ سادھے بیٹھے ہیں۔ یہ خاموشی انسانیت کے مستقبل کے لیے خوفناک نتائج کی حامل ہوگی۔ایران کے وزیر امور خارجہ نے کرج شہر میں ایک پل کو نشانہ بنانے کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ شہر کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ملت ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات دشمن کی اخلاقی ناکامی، مایوسی اور انحطاط کو ظاہر کرتے ہیں۔ پل اور عمارتیں دوبارہ مزید بہتر انداز میں تعمیر کی جا سکیں گی لیکن امریکہ کے موقف، ساکھ اور اعتماد کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جانا کسی صورت ممکن نہیں ہے۔

ملک بھر سے سے مزید