کراچی ( اسٹاف رپورٹر)و زیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے خبردار کیا کہ کرایوں میں اضافے کی کسی بھی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ ایک شناختی کارڈ پر 3 بائیک رجسٹرڈ ہیں تو ایک ہی سبسڈی ملے گی،اگر آپ کا اکاؤنٹ سندھ بینک میں ہے تو 24 گھنٹوں میں رقم منتقل ہوجائے گی، دیگر بینک اکاؤنٹ میں رقم 3 دن میں متنقل ہوجائے گی،سندھ بھر میں 66لاکھ موٹرسائیکل رجسٹرڈ ہیں، اپریل میں ہی اپریل کی سبسڈی دی جائے گی،سندھ میں اس وقت تقریباً 11 ہزار نجی بسیں اور 470 سرکاری بسیں چل رہی ہیں، حکومت نے صرف سرکاری ٹرانسپورٹ تک ریلیف محدود کرنے کے بجائے پورے نظام میں کرایوں کو منجمد رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے 3 سے 4 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پیر کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے موٹر سائیکل فیول سبسڈی پروگرام کے تحت ڈیجیٹل رجسٹریشن نظام کا اجرا کردیا، وزیراعلیٰ ہاؤس میں صوبائی وزراء شرجیل میمن، ناصر شاہ، مکیش چاولہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی کے اثرات سے شہریوں کو بچانے کے لئے ہدفی موٹر سائیکل فیول سبسڈی پروگرام کے تحت ڈیجیٹل رجسٹریشن نظام کا اجرا کردیا ہے، جبکہ ایک وسیع ریلیف پیکج بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ مارکیٹ کے اوقات کار کے حوالے سے تاجر تنظیموں سے بھی مشاورت کی ہے اور تاجروں نے اپنی تجاویز پیش کی ہیں، جن پر حتمی فیصلے سے قبل وفاقی حکومت سے مشاورت کی جائے گی،یہ اقدام ایک جامع ہدفی سبسڈی فریم ورک کا حصہ ہے جس کا مقصد کمزور طبقات کو براہِ راست مالی معاونت فراہم کرنا اور معاشی استحکام و شفافیت کو برقرار رکھنا ہے۔اس اسکیم کے تحت ہر رجسٹرڈ موٹر سائیکل مالک کو ماہانہ 2 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے، جو تقریباً 20 لیٹر ایندھن پر سبسڈی کے برابر ہوگا۔