اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) پاکستان کا تیل صاف کرنے کا شعبہ بڑھتی ہوئی عالمی لاگت اور پالیسی کی غیر یقینی صورتحال کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے، جس سے صنعت کے متعلقہ فریقین (اسٹیک ہولڈرز) میں یہ خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ غلط فیصلے ملک میں ایندھن کی سپلائی چین کو درہم برہم کر سکتے ہیں۔ بحث کا مرکز ریفائنریوں کے منافع سے متعلق عوامی تاثر اور اس شعبے کے بنیادی مالیاتی حقائق کے درمیان بڑھتا ہوا خلیج ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جیو پولیٹیکل کشیدگی خام تیل کی خریداری اور لاجسٹکس کی لاگت میں اضافہ کر رہی ہے۔ اگرچہ عوامی بحث و مباحثے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں ہی بنیادی معیار رہتی ہیں، تاہم صنعتی حکام کا کہنا ہے کہ خام تیل کی اصل لاگت نمایاں سرخیوں میں بتائی گئی قیمت سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ خام تیل کی لینڈڈ قیمت میں اب تیزی سے بڑھتے ہوئے پریمیم، فریٹ کے چارجز، انشورنس کے اخراجات اور مالیاتی اخراجات بھی شامل ہیں۔ مارکیٹ کے شرکاء کے مطابق، حال ہی میں ’’فارورڈ کارگوز‘‘ کے لیے خام تیل کے پریمیم 30 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئے ہیں، جبکہ رواں سال کے شروع میں یہ 10 سے 25 ڈالر کے درمیان تھے۔