اسلام آباد( تنویر ہاشمی )بجٹ اصلاحات نہ ہوئیں تو آئندہ مالی سال 15 لاکھ افراد خط غربت سے نیچے جا سکتے ہیں ، برآمدات میں دو ارب ڈالر کی کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ جی ڈی پی کے 2.8 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے، توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آئندہ سال تیل کی درآمدی لاگت میں چھ ارب ڈالر کا اضافہ متوقع ہے جبکہ مہنگائی اگلے مالی سال میں 11 سے 13 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے، معاشی ماہرین نے پاکستان کے ٹیکس نظام میں فوری اور بنیادی اصلاحات کی ناگزیر ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ وفاقی بجٹ میں موثر اور دوراندیش مالیاتی اقدامات نہ کئے گئے تو سست رفتار معاشی نمو، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیرونی شعبے کے بڑھتے دباؤکے باعث مزید 10 سے 15 لاکھ افراد اگلے مالیاتی سال میں خط ِ غربت سے نیچے جا سکتے ہیں،یہ انتباہ ایس ڈی پی آئی کے زیرِ اہتمام منعقدہ منصفانہ، مساوی اور وسیع البنیاد ٹیکس نظام کی جانب پیش رفت کے موضوع پر پالیسی مکالمے میں کیا گیا۔