پشاور (خصوصی نامہ نگار) سیکرٹری محکمہ صحت خیبرپختونخوا شاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ سروائیکل کینسر ایک ابھرتا ہوا عالمی صحت کا مسئلہ ہے جو پاکستان سمیت دنیا کے 162 ممالک میں نوجوان خواتین کے لئے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔وہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس خطاب کر رہے تھے جس میں صوبے میں سروائیکل کینسر کی روک تھام کے لئے حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، ماہرین صحت، مختلف محکموں ، بین الاقوامی اداروں یونیسف، گاوی، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، جے پییگو، ایکاکس اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن ۥکے نمائندوں، قومی اور صوبائی ہیلتھ ایمرجنسی آپریشنز سنٹرز کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے بھر میں سروائیکل کینسر کی روک تھام کے لیے پروگرام شروع کرنے کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا۔سیکرٹری صحت نے کہا کہ سروائیکل کینسر کی بڑی وجہ ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ہے اور یہ بیماری خواتین میں اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں ایک لاکھ 40 ہزار خواتین اس وائرس کے خطرے سے دوچار ہیں، جو بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں کینسر کی خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بیماری میں اموات کی شرح تشویشناک ہے ہر تین میں سے دو خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہیں، جس کی بڑی وجہ دیر سے تشخیص، اسکریننگ کی کمی، ویکسینیشن سہولت کا نہ ہونا اور آگاہی کا فقدان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت تشخیص اور ویکسینیشن ہو تو اس بیماری سے بچاؤ ممکن ہے۔