پشاور( نیوز رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا بار کونسل رولز میں ترمیم کےخلاف دائر رٹ پٹیشن قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بار کونسل رولز میں حالیہ ترامیم کےخلاف دائررٹ پر سماعت کی۔ دوران سماعت خیبر بار کونسل کے ممبر احمد فاروق خٹک نے موقف اختیار کیا کہ یہ درخواست قابل سماعت نہیں اور درخواست گزاروں کو متعلقہ فورم یعنی پاکستان بار کونسل سے رجوع کرنا چاہیے ۔ دوسری جانب درخواست گزار وکلاءشمال بٹ، یاسر خٹک اور لاجبر خان ایڈوکیٹس نے دلائل دیئے کہ ہائیکورٹ کو اس معاملے کی سماعت کا مکمل اختیار حاصل ہے اور اس حوالے سے اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے بھی موجود ہیں۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ کے پی بار کونسل کی جانب سے کی گئی ترمیم غیر آئینی اور بار کونسل ایکٹ کے منافی ہے جس کے باعث بقایا جات تاخیر سے جمع کرانے والے ہزاروں وکلاءووٹ کے حق سے محروم ہو گئے ہیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے بار کونسل کے اعلامیہ کی معطلی کے حکمِ امتناع میں توسیع کر دی۔