• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انیل امبانی نے عالمی اثر و رسوخ بڑھانے کیلئے ایپسٹین سے رابطے قائم کیے

کراچی (رفیق مانگٹ) بھارت کے معروف صنعت کار اور مکیش امبانی کے چھوٹے بھائی انیل امبانی نے ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی دنوں میں اپنے عالمی اثرورسوخ کو بڑھانے کیلئے مشہور جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ روابط قائم کیے۔ ایپسٹین نے امبانی کو وائٹ ہاؤس کے اندرونی ذرائع اور امریکی خارجہ پالیسی کی معلومات فراہم کیں۔ ایپسٹین نے امریکی سفیر کے انتخاب اور ٹرمپ کی ممکنہ تقرریوں کی درست پیش گوئیاں کیں۔ ایپسٹین نے بھارت-اسرائیل تعلقات میں ہتھیار خریداری اور سفارتی رہنمائی فراہم کی۔ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے خود کو وائٹ ہاؤس کے اندرونی ذرائع تک رسائی رکھنے والا ظاہر کیا، امبانی کو سفارتی، کاروباری اور دفاعی معلومات فراہم کیں اور حتیٰ کہ اسرائیل اور خلیجی ممالک کے تعلقات پر بھی رہنمائی کی۔نیویارک ٹائمز کے مطابق ایپسٹین نے انیل امبانی کے ساتھ دو برس تک جاری رہنے والی ای میل گفتگو میں خود کو ٹرمپ وائٹ ہاؤس کا باخبر رابطہ کار ظاہر کیا۔ ایپسٹین نے امبانی کو اہم سرکاری تقرریوں اور امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق ایسی معلومات فراہم کیں جو بعد میں درست ثابت ہوئیں۔امبانی ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت کے آغاز میں یہ سمجھنے کے خواہاں تھے کہ نئی امریکی قومی سلامتی حکمتِ عملی میں بھارت کی حیثیت کیا ہو گی۔ 2017میں ان کی تلاش بالآخر جیفری ایپسٹین تک پہنچی ۔نیویارک ٹائمز کے مطابق، دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو جس میں بے شمار شارٹ ہینڈ اور ٹائپنگ کی غلطیاں شامل تھیں ۔ ان تبادلوں کے دوران اس نے خارجہ پالیسی، وائٹ ہاؤس کی سوچ اور ٹرمپ کی ممکنہ تقرریوں کے بارے میں ایسی معلومات بھی دیں جو عام طور پر سامنے آنے سے پہلے درست ثابت ہوئیں۔2017 میں، انیل امبانی نے ایپسٹین سے یہ جاننے کے لیے رابطہ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے آغاز پر امریکا کی نئی قومی سلامتی حکمت عملی میں بھارت کا مقام کیا ہوگا۔ آن لائن تعارف کے فوراً بعد امبانی نے ایپسٹین کو پیغام بھیجا کہ وہ وائٹ ہاؤس کے ساتھ بھارت کے تعلقات اور دفاعی تعاون کے معاملے میں اس کی رہنمائی چاہتے ہیں۔ جواب میں ایپسٹین نے انہیں ’’اندرونی معلومات‘‘ فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔

اہم خبریں سے مزید