• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

9 ماہ میں حکومتی قرضے کمرشل بینکوں سے 61 فیصد بڑھ گئے، خرم اعجاز

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)حکومت کا قرضوں پر انحصار، بینکوں سے بڑھتے حکومتی قرضے معیشت کے لیے نقصان دہ، نجی شعبے کی ترقی رک جائے گی، 9 ماہ میں حکومتی قرضے کمرشل بینکوں سے 61فیصد بڑھ گئے،بزنس مین پینل پروگریسو( بی ایم پی پی) کے جنرل سیکرٹری اور فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق نائب صدر خرم اعجاز نے وفاقی حکومت کی جانب سے کمرشل بینکوں سے تیزی سے بڑھتے ہوئے قرضوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس رجحان سے نجی شعبے کے لیے قرضوں کی دستیابی مزید محدود ہو جائے گی۔انہوں نے اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے ابتدائی 9 ماہ میں حکومتی قرضے کمرشل بینکوں سے 61 فیصد بڑھ گئے۔ جولائی تا مارچ کے دوران قرضے بڑھ کر 2.90 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 1.80 ٹریلین روپے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ ٹریژری بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈزکے ذریعے بڑھتا ہوا انحصار بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے ملکی فنانسنگ پر انحصار میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔خرم اعجاز نے اس دوران مرکزی بینک کو 2.14 ٹریلین روپے کی بڑی ادائیگی کا بھی ذکر کی جو فِسکل ریسپانسبلٹی اور ڈیٹ لیمیٹیشن فریم ورک کے مطابق ہے تاہم انہوں نے زور دیا کہ اس تبدیلی نے کمرشل بینکوں پر غیر معمولی دباؤ ڈالا ہے اور کاروباری اداروں کے لیے قرضوں کی گنجائش محدود کر دی ہے۔
اہم خبریں سے مزید