کراچی (اسٹاف رپورٹر) وفاقی اردو یونیورسٹی میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شینواری کی زیرِ صدارت منعقد ہونے والا سینڈیکیٹ کا حالیہ اجلاس کورم نامکمل ہونے کے باعث ایک بار پھر قانونی تنازعے کا شکار ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کی کارروائی کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لئے "مبصرین" کو شامل کر کے اجلاس مکمل کرنے کی کوشش کی گئی۔ یونیورسٹی قوانین کے مطابق سینڈیکیٹ کے کل اراکین کی تعداد 17 ہے، جبکہ کسی بھی اجلاس کے انعقاد کے لئے کم از کم 9 اراکین کی موجودگی لازمی ہے۔ تاہم، بدھ کے اجلاس میں صرف 6 اراکین نے شرکت کی، جن میں پروفیسر ڈاکٹر زاہد، پروفیسر ڈاکٹر مسعود مشکور پروفیسر ڈاکٹر محمد علی ٹریژرار، ناظم امتحانات، جبکہ رئیس کلیہ قانون مرشد علی خان اور صدر انجمن ترقی اردو واجد جواد نے اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی۔ کورم کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ڈاکٹر شاہد اقبال، ڈاکٹر کمال حیدر، ڈاکٹر لبنیٰ بشیر، ڈاکٹر حافظ ثانی اور ڈاکٹر راحت اللہ کو بطور مبصر شامل کر کے اجلاس کی کارروائی چلائی گئی۔ نامکمل کورم کے باوجود اجلاس میں سال 2022 میں دیئے گئے بھرتیوں کے اشتہار کو منسوخ کرنے کا بڑا فیصلہ کیا گیا۔ انتظامیہ نے اس فیصلے کے لئے سینیٹ کے جس اجلاس کا حوالہ دیا، اس کی روداد (Minutes) پر خود سینیٹ اراکین کی اکثریت پہلے ہی عدم اعتماد کا اظہار کر چکی ہے۔اس کے علاوہ سینڈیکیٹ سے مخصوص شعبہ جات کے لئے نئے اشتہار کے اجرا کی منظوری حاصل کی گئی۔ یونیورسٹی میں اساتذہ کے نمائندوں روشن سومرو اور ڈاکٹر اقبال نقوی نے ان فیصلوں کو "جبر اور غیر قانونی اقدام" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔نامزد کنندہ کمیٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ چند مخصوص شعبہ جات اور افراد کو نوازنے کے لئے سیلکشن بورڈ کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے جسے اساتذہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی ہدایات کے مطابق تمام خالی اسامیوں پر شفاف طریقے سے سیلکشن بورڈ منعقد کیا جائے۔