• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی بحری ناکہ بندی، عالمی توانائی اور خوراک کے بڑھتے خطرات

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث خلیجی خطے میں کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی ہے، جس سے عالمی معیشت کو شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اس صورتحال نے دنیا بھر میں توانائی کی طویل مدتی قلت، کھاد کی فراہمی میں تعطل اور غذائی تحفظ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے حوالے سے شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ موجودہ سنگین صورتحال فروری 2026کے اواخر سے پہلے سے غیر مستحکم مارکیٹوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جب خطے میں جغرافیائی و سیاسی کشیدگی میں شدت پیدا ہوئی تھی۔ تب سے اب تک کھاد کی قیمتوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے، جس نے عالمی زرعی پیداوار کے طویل مدتی استحکام کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ یوریا، جو کہ خوراک کی پیداوار کے لیے انتہائی اہم اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والی نائٹروجن پر مبنی کھاد ہے، اس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ فروری 2026 کے آخر میں یوریا کی قیمت تقریباً 469 سے 574 ڈالر فی ٹن تھی، جو مارچ کے وسط تک بڑھ کر 594 ڈالر فی ٹن ہو گئی، اور اپریل کے اوائل میں مزید اضافے کے ساتھ 674 سے 701 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ قیمتوں میں یہ اضافہ محض چھ سے سات ہفتوں کے اندر تقریباً 45 سے 75فیصد تک ہوا ہے۔ اس غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجوہات توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت، سپلائی چین (ترسیلی نظام) میں عدم استحکام، اور کھاد پیدا کرنے والے کلیدی خطوں میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی خطرات ہیں۔ امونیا کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ فروری کے اوائل میں 400 سے 443 ڈالر فی ٹن کے لگ بھگ رہنے والی قیمتیں مارچ کے وسط تک بڑھ کر تقریباً 600 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہیں۔ یہ محض چند ہفتوں کے اندر تقریباً 20 سے 25 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہیں، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی برآمدی منڈیوں میں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کھاد کی مارکیٹ توانائی کے بحرانوں کے سامنے انتہائی غیر محفوظ ہے، کیونکہ اس کی پیداوار کا زیادہ تر انحصار قدرتی گیس اور پیٹرو کیمیکل خام مال پر ہوتا ہے۔ خلیجی ممالک کے بحری تجارتی راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کھاد کی دستیابی اور قیمتوں، دونوں پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ تیل کی منڈیوں نے بھی حالات کی اس سنگینی پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید