پشاور(نیوز رپورٹر)پشاورہائیکورٹ نے جموں و کشمیر کی خاتون کو پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951کے تحت شہریت نہ دینے کیخلاف دائر رٹ پٹیشن پر وفاقی حکومت اور اداروں سے جواب طلب کرلیا ۔جسٹس وقار احمد کی سربراہی میں بنچ نے رٹ پر سماعت کی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیاہے کہ اسکے آباواجداد تقسیم کے بعد پاکستان ہجرت کر گئے جبکہ انکے والدجموں و کشمیر میں رہے ۔اس نے 2009میں پاکستانی سے شادی کی اورانکے بچے بھی ہیںتاہم اس کے باجود گزشتہ 19 سال سے اسے شہریت سے محروم رکھا گیا ہے۔ مہوش محب کاکاخیل ایڈوکیٹ کے مطابق اسکی موکلہ نے شہریت کے لئے وزارت داخلہ سے رجوع کیا اور خاندان کیساتھ مستقل طور پر پاکستان میں رہنے کےلئے اپنی سابقہ شہریت ترک کرنے پر آمادگی ظاہر کی تاہم اسکی درخواست پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔درخواست میں مزیدکہاگیاہے کہ وہ پشاور میں بغیر قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ یادستاویزی شناخت کے مقیم ہے۔ متعلقہ یونین کونسل نے اسکی شادی کو رجسٹرڈ کرنے سے بھی انکار کیا۔ عدالت نے ابتدائی دلائل کے بعد وزارت داخلہ ، نادرا اور امیگریشن اینڈپاسپورٹ حکام کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیاجبکہ حکام کو درخواست گزارہ کا پاسپورٹ واپس کرنے کی بھی ہدایت کردی۔