• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کے جذباتی اقدامات دراصل سوچے سمجھے فیصلے ہوتے ہیں، امریکی پروفیسر

کراچی (رفیق مانگٹ)امریکی پروفیسر ف جیفری سونن فیلڈ نے ٹرمپ کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی صدر کےجذباتی اقدامات دراصل سوچے سمجھے فیصلے ہوتے ہیں ،بار بار غلط معلومات کا دہرانا ٹرمپ کا عوامی رائے پر اثر انداز ہونے کا موثر ہتھیار ہے، وہ بے وقوف نہیں بلکہ لومڑی جیسی چالاکی رکھتے ہیں، وہ مذاکرات میں اعتماد نہیں بلکہ خوف پیدا کرتے ہیں، بعض اوقات حکمت عملی الٹا اثر بھی ڈالتی ہے مگر ٹرمپ ایک سمجھدار اداکار ہیں،محض تنقید یا نعرے بازی سے ٹرمپ کا مقابلہ ممکن نہیں، وہ واضح حکمت عملی کے تحت تقسیم کرو اور حکومت کرو کے اصول پر عمل کرتے ہیں۔امریکی ٹی وی سی این این کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے میزبان مائیکل سمرکونش نے ییل یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری سونن فیلڈ سے ٹرمپ کی شخصیت، قیادت اور فیصلہ سازی کے حوالے سے سوال کئے ۔جیفری سونن فیلڈ ییل یونیورسٹی میں لیڈرشپ اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ ڈین اور لیسٹر کراؤن پروفیسر اِن دی پریکٹس آف مینجمنٹ ہیں وہ نئی کتاب "ٹرمپز ٹین کمانڈمنٹس" کے شریک مصنف بھی ہیں، جو نیو یارک ٹائمز، ایمیزون اور یو ایس اے ٹوڈے کے مطابق اس وقت بیسٹ سیلر ہے۔میزبان نے کہا کہ آپ کی کتاب منفرد ہے کیونکہ آپ لیڈرشپ کے اسکالر ہیں اور آپ انہیں 25 سال سے جانتے ہیں۔ تو میرا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا وہ فیصلے تجزیے کی بنیاد پر کرتے ہیں یا جبلت پر؟ اس پر سونن فیلڈ نے وضاحت کی کہ ٹرمپ کی فیصلہ سازی دراصل تجزیہ اور جبلت دونوں کا امتزاج ہے، تاہم ان کے بقول تجزیاتی پہلو زیادہ غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اپنے پورے کیریئر میں مخصوص حکمتِ عملی کے تحت کام کرتے آئے ہیں، جنہیں وہ "دس اصول" یا "لیورز" قرار دیتے ہیں، اور بظاہر جذباتی یا اچانک نظر آنے والے اقدامات دراصل سوچے سمجھے فیصلے ہوتے ہیں۔سونن فیلڈ نے اس تاثر کو بھی چیلنج کیا کہ ٹرمپ غیر صبر اور جذباتی انداز میں فیصلے کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، ٹرمپ ایک واضح حکمتِ عملی کے تحت تقسیم کرو اور حکومت کروکے اصول پر عمل کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اجتماعی ردعمل ہی ان کا مؤثر مقابلہ ہو سکتا ہے، اسی لیے وہ مختلف اداروں اور گروہوں کو نشانہ بناتے ہیں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ معلومات ، اگر وہ مکمل طور پر درست نہ ہوںکو بار بار دہرا کر عوامی رائے پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض اوقات غلط بیانیے بھی معاشرے میں جڑ پکڑ لیتے ہیں۔کتاب کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے سونن فیلڈ نے بتایا کہ اس خیال کی ابتدا جیرڈ کشنر نے کی، جن کا مؤقف تھا کہ ٹرمپ ایک غیر روایتی شخصیت ہیں جنہیں نہ ان کے ناقدین مکمل طور پر سمجھتے ہیں اور نہ ہی ان کے حامی۔ سونن فیلڈ کے مطابق، محض تنقید، نعرے بازی یا القابات سے ٹرمپ کا مقابلہ ممکن نہیں، بلکہ ان کی حکمتِ عملی اور طریقہ کار کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے "سلیپر ایفیکٹ" اور "وال آف ساؤنڈ" جیسے تصورات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ مسلسل مختلف بیانیوں کے ذریعے توجہ منتشر کرتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید