• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا نرم، ایران گرم، جنگ بندی میں توسیع، ٹرمپ نے ڈیڈ لائن نہیں دی، وائٹ ہاؤس، ناکہ بندی تک ہرمُز نہیں کھلے گی، پاسداران

تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں امریکا کے رویے میں نرمی دیکھنے میں آئی ہے ‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کل جمعہ تک مذاکرات ممکن ہیں‘دوسرے راؤنڈمیں اچھی خبر متوقع ہےجبکہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے واضح کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کے خاتمے کے لیے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی ہے‘وہ امریکی تجاویز پر ایرانی قیادت کی جانب سے ایک متفقہ مؤقف کے منتظر ہیں‘ امریکی صدر ایران کی جانب سے دو بحری جہازوں کو قبضے میں لئے جانے کو جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں سمجھتے کیونکہ یہ جہاز امریکی یا اسرائیلی نہیں ہیں ۔دوسری جانب ایران نے ڈائیلاگ کے حوالے سے اپنا سخت مؤقف برقرار رکھاہواہے ‘پاسداران انقلاب نے اعلان کیاہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہنے تک آبنائے ہرمز کو نہیں کھولا جائے گا‘ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقرقالیباف کاکہنا ہے کہ فوجی جارحیت سے اہداف حاصل نہیں ہو سکتے‘ آگے بڑھنے کا واحد راستہ ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کرنا ہے‘ مکمل جنگ بندی صرف اسی صورت میں بامعنی ہوگی جب امریکا ناکہ بندی ختم کرے اور عالمی معیشت کو یرغمال نہ بنائے ‘ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق امریکا کی وعدہ خلافی ‘ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور دھمکیاں حقیقی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں‘ادھر ایران نے آبنائے ہرمز میں تین مال بردار جہازوں کو نشانہ بنایاہے ‘ پاسداران انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ اس نے خلاف ورزی کے مرتکب دو جہازوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے ۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اور مناسب اقدامات کرے گا۔ایران کے ایک سینئرمشیر مہدی محمدی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان بے معنی ہے اور یہ اچانک حملے کے لیے مزید وقت حاصل کرنے کی چال ہےجبکہ ترکیہ کے صدر طیب اردوان نے اپنے جرمن ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ ایران کی خلاف امریکا اوراسرائیل کی جنگ نے یورپ کوکمزورکرنا شروع کردیاہے‘ صورتحال پر قابونہ پایاتونقصان کہیں زیادہ ہوگا۔ادھر چین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا تنازعہ انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ امریکی وزیرخزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہاہے کہ واشنگٹن نے روسی تیل پر پابندیوں میں 30 دن کی رعایت میں توسیع کر دی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق معاملے سے باخبر ایک امریکی ذریعے نے بتایا ہےکہ ٹرمپ ایرانیوں کو معاملات درست کرنے کے لیے مزید تین سے پانچ دن کی جنگ بندی پر تیار ہیں تاہم یہ سلسلہ غیر معینہ مدت کے لیے نہیں ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی اخبار نیو یارک پوسٹ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں آئندہ36سے 72گھنٹوں کے دوران مذاکرات ہونے کے امکان کے حوالے سےصدر ٹرمپ نے بتایا ہے کہ یہ ممکن ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ذرائع نے کہا ہے کہ اگلے 26 سے 72 گھنٹوں تک یعنی جمعے کو پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ اور پاکستانی ذرائع نے بدھ کو اخباردی پوسٹ کو بتایاہے کہ دوسرے دور کے مذاکرات کے بارے میں اچھی خبر ممکنہ طور پر جمعے تک سامنے آ سکتی ہے۔دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی‘ دھمکیاں اور وعدوں کی خلاف ورزی امریکا کے ساتھ حقیقی اور جامع مذاکرات کی راہ میں بنیادی رکاوٹیں ہیں۔ تہران نے مکالمے اور معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور اب بھی کرتا ہے۔انہوں نےبظاہر صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ دنیا آپ کی منافقانہ کھوکھلی باتوں اور آپ کے دعوؤں اور عملی اقدامات کے درمیان تضاد کا مشاہدہ کر رہی ہے۔علاوہ ازیں باقر قالیباف نے کہاکہ مکمل جنگ بندی اسی صورت میں معنی رکھتی ہے جب تمام محاذوں پر صہیونی جنگی اشتعال انگیزی کو روکا جائے۔ادھرایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں تینوں جہازوں کو پاسداران انقلاب نے نشانہ بنایا ہے۔خبر رساں ادارے فارس کا کہنا ہے کہ یوفوریا نامی ایک جہاز کو نشانہ بنایا گیا اور وہ اس وقت ایرانی ساحل کے قریب گراؤنڈ ہو چکا ہے۔ پاسداران انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ اس نے خلاف ورزی کے مرتکب دو جہازوں کو اپنی تحویل میں لیا اور ایرانی ساحل کی جانب منتقل کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں نظم و سلامتی میں خلل ڈالنا ہماری سرخ لکیر ہے۔یونان کے وزیرخارجہ کے مطابق یونانی مال بردار جہاز ایپامینونڈاس کو پاسداران انقلاب کی جانب سے نشانہ بنایا گیا تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا ایران نے اسے حراست میں لیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید