کراچی(رفیق مانگٹ) امریکی جریدے دی اٹلانٹک کے مطابق ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کی پوزیشن نمایاں، بھارت عالمی منظر نامے میں پیچھے رہ گیا، بھارت کا عالمی طاقت بننے کا خواب چکناچور، اب صرف نمائشی سیاست باقی رہ گئی،اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور بغیر کسی معاہدے پر نئی دہلی میں خوشی کا اظہار،داخلی سیاست اور میڈیا کنٹرول نے بھارت کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا،پاکستان اس وقت سفارتی طور پر نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے، جبکہ بھارت کی سیاسی اشرافیہ اس صورتحال سے خوش نظر نہیں آتی۔بھارتی وزیرِاعظم مودی گزشتہ ایک دہائی سے خود کو عالمی جنوب کا رہنما ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور یہ تاثر دیا کہ عالمی معاملات میں بھارت ناگزیر ہے۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع نے عالمی معیشت کو بحران میں ڈال دیا ہے، جس کے اثرات بھارت پر بھی پڑے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کر کے نئی دہلی کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے، جس سے بھارتی حکومت اپنی غیر اہمیت پر غور کرنے پر مجبور ہے۔ 8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد بھارتی سیاسی حلقوں میں مودی حکومت پر تنقید بڑھ گئی۔ کانگریس پارٹی کے رہنما جے رام رامیش نے اسے مودی کی ذاتی نوعیت کی سفارتکاری کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا۔ جبکہ اسدالدین اویسی نے کہا کہ اگر مودی حکومت کی غلطیاں نہ ہوتیں تو مذاکرات بھارت میں ہو سکتے تھے۔اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوا، جس پر نئی دہلی میں خوشی کا اظہار کیا گیا۔ تاہم پاکستان نے ثالثی کا کردار ترک نہیں کیا اور مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے۔