• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ریڈ لائن پراجیکٹ منصوبہ ڈی سیل کرنے کی استدعا مسترد، ڈی سی ایسٹ و دیگر کو نوٹس

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے ریڈ لائن منصوبہ ڈی سیل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ٹرانس کراچی، سندھ حکومت، مختیار کار، پولیس اور ڈپٹی کمشنر ایسٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت 29اپریل تک ملتوی کردی ہے۔عدالت نے ناظر کو سائٹ وزٹ کر کے مشینری کی فہرست جمع کرانے کا حکم دیدیا۔ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو ریڈ لائن لاٹ ٹو منصوبہ سیل کرنے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کہا کہ ریڈ لائن منصوبہ فیز ٹو کا کانٹریکٹ پاکستانی اور چینی کمپنی کو دیا گیا تھا۔ ٹرانس کراچی نے ریڈ لائن منصوبے کا ڈیزائن ڈھائی سال بعد درخواست گزار کو فراہم کیا تھا۔ جبکہ ریڈ لائن کی سائٹ 30ماہ بعد کانٹریکٹر کے حوالے کی تھی۔ تنازع کے حل کیلئے بنائے گئے بورڈ نے منصوبے میں تاخیر کا ذمہ دار حکومت کو قرار دیا تھا۔ بورڈ نے کانٹریکٹر کو 3.7ارب روپے اضافی اخراجات اور تاخیر کی مد میں ادا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ گزشتہ روز مختیار کار، پولیس اور ڈپٹی کمشنر نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے دفتر اور سائٹ سیل کردی ہے۔ کانٹریکٹر کی اربوں روپے کی مشنری سائٹ پر موجود ہے جو مال غنیمت بنی ہوئی ہے۔ مختیار کار اور پولیس کو درخواست گزار کا دفتر اور سائٹ سیل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ درخواست گزار کا دفتر اور سائٹ ڈی سیل کرنے کا حکم دیا جائے۔ بیرسٹر صلاح الدین احمد کے مطابق عدالت نے سائٹ فوری ڈی سیل کرنے کی استدعا مسترد کردی۔ ریڈ لائن کی سائٹ کا وزٹ کرنے کے لئے ناظر مقرر کردیا گیا ہے۔
اہم خبریں سے مزید