کراچی (اسٹاف رپورٹر) گلستان جوہر میں شیشہ کیفے میں جھگڑے کے دوران فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا ، واقعہ کے بعد مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی کی۔ تفصیلات کے مطابق گلستان جوہر تھانے کی حدود بلاک 3 کنٹینینٹل بیکری کے قریب شیشہ کیفے میں فائرنگ سے دو نوجوان زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک زخمی دوران علاج چل بسا۔ پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت 22 سالہ نجیب علی ولد نیاز علی جبکہ زخمی کی عدنان ولد خالد حسین کے نام سے کی گئی۔واقعہ کے بعد مقتول کے رشتہ دار ، دوست ، احباب اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی۔ مشتعل افراد نے شیشہ کیفے میں ہنگامہ آرائی کی اور شیشہ کیفے میں رکھا سامان توڑ ڈال اور سڑک بلاک کرکے احتجاج کیا۔مقتول کا تعلق ایک سیاسی جماعت کے یوتھ ونگ سے بتایا جاتا ہے۔ موقع پر موجود مقتول کے دوستوں نے بتایا کہ مذکورہ شیشہ بار میں مبینہ طور کے ہر قسم کا نشہ بھی فراہم کیا جاتا تھا اسی لیے ہم لوگ دیکھنے آئے تھے کہ کہیں علاقے کے بچے بچیاں تو یہاں نہیں ہیں۔ پی ایس 100 مسلم لیگ ( ن ) کے عہدیدار توفیق احمد منگی نے بتایا کہ نجیب احمد میمن وہ بھی پی ایس کا عہدیدار اور آرگنائز کمیٹی کا ممبر تھا ۔ ہمارے دوست کے چھوٹے بھائی اکثر گھر والوں سے چھپ کر شیشہ کیفے پر آتے تھے ۔کچھ دوست کیفے والوں سے بات کرنے آئے تھے کہ آپ اس کیفے اور منشیات کو بند کریں جس پر پہلے سیکیورٹی گارڈ نے بدتمیزی کی۔ نجیب نے اسے روکنے کی کوشش کی تو شیشہ کیفے کے مالک اس کا بیٹا اور اس کے ساتھ تین چار لوگوں نے پستولوں کے چیمبر کھینچ لیے اور فائرنگ کر دی گولی نجیب کے سینے میں لگی جس سے اس کی موت واقع ہوئی جبکہ دوسرا ہمارا کارکن نوجوان نجیب کو اٹھا رہا تھا تو اسے دھکے دیے اور پیر پر ایک گولی مار دی ۔انہوں نے بتایا کہ شیشہ کیفے کا مالک سب کے سامنے کہہ رہا تھا کہ ہم پولیس کو 3 سے 4 لاکھ روپے بھتہ دیتے ہیں ، میں ایس ایس پی کا بیٹا ہوں ، ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔توفیق منگی نے بتایا کہ شیشے کیفے کے مالک اور اس کے ساتھیوں نے اس سے قبل بھی متعدد بار فائرنگ کر کے متعدد افراد کو زخمی اور چانڈیو برادری کے جوان کو قتل کر چکا ہے ۔ پولیس نے فائرنگ میں ملوث سیکیورٹی گارڈ اکرم ، کیفے کے منیجر سمیت تین افراد کو اسلحہ سمیت حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا ہے۔مقتول نجیب بھٹائی آباد کا رہائشی تھا جبکہ اس کا آبائی تعلق خیر پور میرس ( گمبٹ ) سے بتایا جاتا ہے۔مقتول رئیل اسٹیٹ کا کام کرتا تھا۔پولیس کے مطابق واقعہ شیشہ کیفے میں مقتول نجیب ، اس کے ساتھیوں اور انتظامیہ میں تلخ کلامی پر جھگڑا ہوا اسی دوران مقتول کے ساتھیوں نے ہنگامہ آرائی کی سکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے مقتول مارا گیا ۔گلستان جوہر پولیس نے واقعہ کا مقدمہ مقتول کے بھائی کی مدعیت میں زیر دفعہ 302/324/34 کے تحت درج کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والا سیکیورٹی گارڈ اور کیفے مینجر کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعہ کے حوالے سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔