پشاور (خصوصی نامہ نگار) پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا نے بنوں، ڈی آئی خان اور صوبے کے دیگر شہروں میں نجی کلینکس پر طبی خدمات پر 2 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹیکس بالواسطہ طور پر غریب مریضوں پر منتقل ہوگا جس سے علاج مزید مہنگا اور عوام کی رسائی محدود ہوگی، خصوصی طور پر جنوبی اضلاع جیسے ڈی آئی خان اور بنوں، جہاں سیکورٹی صورتحال انتہائی چیلنجنگ ہے، وہاں ڈاکٹرز پہلے ہی مشکل حالات میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حکومت کو ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے نہ کہ مزید مالی بوجھ ڈالے، قوانین کے مطابق سیلز ٹیکس سروس کے پی آر اے یعنی مریض سے وصول کیا جائے گا، جو عوام پر براہ راست اضافی بوجھ ہے مزید یہ کہ ڈاکٹرز اشیاء فروخت نہیں کرتے بلکہ خدمات فراہم کرتے ہیں، اس لئے سیلز ٹیکس کا اطلاق اصولی طور پر بھی قابلِ اعتراض ہے۔ ایک بیان میں پی ڈی اے کا کہنا ہے کہ اہم قانونی نکتہ یہ ہے کہ فیڈرل فنانس ایکٹ کے مطابق ہیلتھ، ڈاکٹری اور وکالت بنیادی طور پر وفاق کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور ان پر وفاقی سطح پر ٹیکسز (انکم ٹیکس) پہلے ہی لاگو ہیں، لہٰذا یہ شعبے صوبائی سطح پر اضافی ٹیکسز سے مستثنیٰ ہیں اور صوبائی حکومت ان پر مزید ٹیکس عائد نہیں کر سکتی ایسے میں جبکہ ڈاکٹرز پہلے ہی وفاقی انکم ٹیکس اور صوبائی سطح پر پروفیشنل ٹیکس ادا کر رہے ہیں، مریضوں پر 2 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کرنا دوہرا اور غیر منصفانہ ٹیکس ہے۔ مزید برآں، چونکہ ڈاکٹرز خدمات فراہم کرتے ہیں نہ کہ اشیاء فروخت کرتے ہیں، اس لئے اس نوعیت کا سیلز ٹیکس اصولی و قانونی لحاظ سے بھی غیر مناسب اور قابلِ اعتراض ہے۔ ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس اقدام کو فوری واپس لیا جائے۔