• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حملوں کے باوجود جنگ بندی برقرار، امریکا، ہرمز کا کنٹرول کسی صورت میں نہیں چھوڑیں گے، ایران، امارات پر دوسرے دن بھی حملے

تہران /دبئی (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) متحدہ عرب امارات نے منگل کو بتایا ہے کہ اسے دوسرے روز بھی ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنارہا ہے جبکہ برطانیہ ‘فرانس ‘انڈیا ‘جرمنی ‘سعودی عرب ‘قطر ‘کینیڈا‘عمان ‘بحرین ‘کویت اوریورپی یونین نے یواے ای پر ایران کےحالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے‘دوسری جانب پاسداران انقلاب نے گزشتہ چند دنوں کے دوران امارات پر کسی بھی قسم کے حملے کی تردید کی ہے‘ادھرصدر ٹرمپ نےمشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو چھوٹی سی فوجی جھڑپ قراردیتے ہوئے ایران پر زور دیا کہ وہ عقلمندی سے کام لے اور جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کر لے‘میں مزید ایرانیوں کو مارنا نہیں چاہتا ۔ تہران جانتاہے اسے کیاکرنا ہے ‘اگلے ہفتے چینی صدرسے ملاقات میں مثبت پیش رفت کی امید ہے جبکہ امریکی وزیردفاع پیٹ ہیگستھ کاکہنا ہے کہ ہرمز میں تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے امریکی کارروائی عارضی ہے‘ سیزفائراب بھی برقرار ہے ‘امریکا ہرمز کے معاملے پر لڑائی نہیں چاہتا تاہم جنگی اور تجارتی جہازوں پر حملہ ہواتو تباہ کن کارروائی کے ذریعے جواب دیاجائےگا‘ایران کو ہرمز بند کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی ‘امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیوکے مطابق آپریشن ایپک فیوری ختم ہو چکا ہے‘ امریکا نے ایران کیخلاف اپنی جارحانہ کارروائیاں مکمل کر لی ہیں۔امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ دشمن ہمارے تحمل کو عزم کی کمزوری نہ سمجھے ‘اگرحکم ملاتودوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اسرائیل کی فضائیہ کے نئے سربراہ میجر جنرل عمر ٹشلر کے مطابق ان کا ملک ضرورت پڑنے پر ایران کے خلاف اپنی پوری فضائیہ تعینات کرنے کے لیے تیار ہےجبکہ اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے کہا ہے کہ صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہےہیں ‘مسلح افواج ہائی الرٹ اور ایران کے کسی بھی حملے کا بھرپورطاقت کے ساتھ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کے ذریعے اب تک 51 بحری جہازوں کا راستہ تبدیل کرواکر واپس بھیجا جاچکا ہے‘دوسری جانب ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کےا سپیکر محمد باقر قالیباف نے عزم ظاہر کیا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کا کنٹرول کسی صورت نہیں چھوڑے گا‘موجودہ صورتحال کا تسلسل امریکا کے لیے ناقابلِ برداشت ہےحالانکہ ابھی تو ہم نے آغازبھی نہیں کیا‘ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز ایران کا تجویز کردہ راستہ اختیار کریں بصورت دیگر انہیں فیصلہ کن کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔عرب لیگ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل حسام ذکی نے واضح کیا ہے کہ تہران اپنے اقدامات کے ذریعے انتہائی نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال رہا ہے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ہرمز میں امریکا کا پروجیکٹ فریڈم دراصل پروجیکٹ ڈیڈلاک کے مترادف ہے۔ برطانیہ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر لارڈ رکیٹس نے کہا ہے کہ امریکا ہر جہاز کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتا‘ واحد راستہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا ہے۔

اہم خبریں سے مزید