• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ، تعلیمی بورڈز میں بھرتیوں کے نئے قواعد، چیئرمین کی عمر کی حد 60 سال

کراچی(سید محمد عسکری) سندھ کے تعلیمی بورڈز میں بھرتیوں کے نئے قواعد متعارف، عمر کی حد اور تقرری کا طریقہ کار بھی تبدیل کردیئے گئے ہیں جس کی باقاعدہ منظوری صوبائی کابینہ سے بھی حاصل کرلی گئی ہے۔ نئے قواعد چیئرمین، سیکریٹری، ناظم امتحانات آڈٹ افسر اور دیگر اہم عہدوں پر تقرریاں شفاف، میرٹ پر مبنی ہوں گی۔ نئے قواعد کے تحت گریڈ 17 اور اس سے اوپر کی تمام تقرریاں ایک اعلیٰ سطح کی اپائنٹمنٹ اینڈ پروموشن کمیٹی کے ذریعے ہوں گی، جبکہ گریڈ 16 اور اس سے کم اسامیوں کے لئے الگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ حتمی منظوری کنٹرولنگ اتھارٹی دے گی۔ نئے قواعد کے مطابق چیئرمین تعلیمی بورڈ (بی پی ایس 19/20) کی تقرری اشتہار کے ذریعے تین سالہ کنٹریکٹ پر ہوگی جس میں کارکردگی کی بنیاد پر مزید توسیع دی جاسکے گی۔ امیدوار کے لئے ایچ ای سی سے تسلیم شدہ جامعہ سے کم از کم فرسٹ ڈویژن ماسٹرز یا 16 سالہ تعلیم اور سرکاری یا نجی شعبے میں 15 سالہ سینئر انتظامی تجربہ لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ عمر کی حد 62 برس سے کم کر کے 60 کردی گئی ہے۔ سیکریٹری بورڈ (بی پی ایس 19) کی تقرری بھی براہ راست اشتہار کے ذریعے تین سال کے لئے ہوگی۔ امیدوار کے پاس 16 سالہ تعلیم، انتظامی و مالی امور میں کم از کم 12 سال کا تجربہ ہونا ضروری ہوگا جبکہ عمر کی حد 35 سے 50 سال مقرر کی گئی ہے۔ بھرتی کے عمل میں تاخیر کی صورت میں اضافی سیکریٹری یا گریڈ 18/19 کے افسر کو عارضی چارج دیا جاسکے گا۔ ناظم (بی پی ایس 19) کے لئے امیدوار کو ایجوکیشنل مینجمنٹ، پبلک ایڈمنسٹریشن، مینجمنٹ سائنسز یا آئی ٹی میں ماسٹرز یا 16 سالہ تعلیم کے ساتھ امتحانی نظام اور انتظامی امور میں 12 سالہ تجربہ درکار ہوگا۔ اس عہدے کے لئے بھی عمر کی حد 35 سے 50 سال رکھی گئی ہے اور تقرری اشتہار کے ذریعے ہوگی۔ آڈٹ آفیسر (بی پی ایس 18) کے لئے ایم بی اے فنانس، ایم کام، اے سی سی اے یا مساوی ڈگری اور آڈٹ یا اکاؤنٹنگ میں پانچ سالہ تجربہ لازمی ہوگا۔ اس پوسٹ پر براہ راست بھرتی یا اسسٹنٹ سیکرٹریز میں سے انتخاب کیا جاسکے گا۔ عمر کی حد 50 سال مقرر کی گئی ہے۔ انسپکٹر آف انسٹی ٹیوشنز، ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات اور ایڈیشنل سیکرٹری جیسے اعلیٰ عہدے ترقی کی بنیاد پر پُر کئے جائیں گے۔ ان عہدوں کے لئے متعلقہ گریڈ میں کم از کم سات سال یا مجموعی طور پر 12 سالہ سروس لازمی قرار دی گئی ہے اور تقرری سنیارٹی کم فٹنس کی بنیاد پر ہوگی۔ ڈپٹی کنٹرولر امتحانات اور ڈپٹی سیکرٹری کے عہدوں پر بھی ترقی کے ذریعے تقرری کی تجویز دی گئی ہے۔ ڈپٹی کنٹرولر کے لئے اسسٹنٹ کنٹرولر یا سیکریسی آفیسر کے طور پر پانچ سالہ سروس ضروری ہوگی۔ سیکریسی آفیسر (بی پی ایس 17) کی 50 فیصد اسامیاں براہ راست بھرتی جبکہ 50 فیصد ترقی کے ذریعے پُر کی جائیں گی۔ امیدوار کے لیے 16 سالہ تعلیم، متعلقہ شعبے میں تین سالہ تجربہ اور عمر 24 سے 32 سال مقرر کی گئی ہے۔ ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن (بی پی ایس 18) کی پوسٹ اب براہ راست بھرتی کے ذریعے پُر ہوگی۔ امیدوار کے لئے فزیکل ایجوکیشن میں ماسٹرز یا 16 سالہ تعلیم، کم از کم پانچ سالہ انتظامی تجربہ اور عمر 25 سے 35 سال مقرر کی گئی ہے۔ اسسٹنٹ سیکریٹری (ریسرچ) / ریسرچ آفیسر (بی پی ایس 17) کے لئے 16 سالہ تعلیم، تین سالہ تدریسی یا تحقیقی تجربہ اور عمر 24 سے 32 سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ ان پوسٹوں کی 50 فیصد اسامیاں براہ راست بھرتی اور باقی ترقی کے ذریعے پُر کی جائیں گی۔ اسی طرح اسسٹنٹ سیکریٹری اور اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات (بی پی ایس 17) کے لئے بھی 50 فیصد براہ راست بھرتی اور 50 فیصد ترقی کی تجویز دی گئی ہے۔ امیدوار کے لئے کم از کم 16 سالہ تعلیم اور عمر 21 سے 28 سال مقرر کی گئی ہے۔ صوبائی کابینہ کو دی گئی پریزنٹیشن میں کہا گیا کہ نئے قواعد کے نفاذ سے تعلیمی بورڈز میں گورننس بہتر ہوگی، تقرریوں میں شفافیت آئے گی اور امتحانی نظام پر عوامی اعتماد بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ ماضی میں تعلیمی بورڈز کے سروس رولز صرف بورڈ آف گورنرز سے منظور کئے جاتے رہے اور انہیں کابینہ میں پیش نہیں کیا گیا، جو قانونی تقاضوں کے برعکس تھا۔ نئے قواعد محکمہ قانون اور ایس جی اے اینڈ سی ڈی سے مشاورت کے بعد تیار کئے گئے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید