ملتان (سٹاف رپورٹر)نشتر ہسپتال ادویات و سہولتوںکی کمی اور شدید مالی و انتظامی مشکلات کا شکار، بتایا جاتا ہے کہ نشتر ہسپتال میں 1813بیڈز منظورہ شدہ ہیں، تاہم روزانہ3300سے زائد مریض زیرعلاج رہتے ہیں، جس کے باعث ہسپتال پر بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے،مریضوں اور تیمارداروں کا کہنا ہے کہ بیڈز کی کمی کے باعث متعدد مریضوں کو فرش پر یا وارڈز کے باہر علاج کروانا پڑتا ہےجب کہ ادویات اور تشخیصی سہولتوںکی عدم دستیابی بھی سنگین مسئلہ بن چکی ہے، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ محدود وسائل کے ساتھ بڑھتی ہوئی مریضوں کی تعداد کو سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے،ایکسرے فلم اور ضروری طبی سامان کی قلت کے باعث تشخیص اور علاج کا عمل بھی متاثر ہو رہا ہے، شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پنجاب نشتر ہسپتال کو فوری طور پر اضافی فنڈز فراہم کرے تاکہ مریضوں کو بہتر طبی سہولیات میسر آ سکیں۔