اسلام آباد (اے پی پی) وزیر دفاع خواجہ محمدآصف نے کہاہے کہ افغانستان ہندوتوا کی پراکسی بنا ہوا ہے، دہلی اور کابل میں کوئی فرق نہیں ہے، کابل پاکستان کو دہشت گردی روکنےکی یقین دہانی نہیں کرا رہا،ہم چاہتے ہیں کہ بات چیت کے ذریعے دہشت گردی کا سدباب ہو ، لیکن اگر افغانستان تیار نہیں توجو دہلی کے ساتھ کیا، وہی کابل کے ساتھ کرینگے،تین ملکوں کے ساتھ ملکر طالبان حکومت کو سمجھانے کی بہت کوشش کی، قطر، سعودیہ اور ترکیہ نے بھی مذاکرات میں پاکستان کا ساتھ دیا،کابل حکومت کے ساتھ 19، 19 گھنٹے طویل گفت و شنید ہوئی، وہ زبانی کلامی بات کرنے کو تیار ہیں، لکھنے کیلئے تیار نہیں، تنگ آمد بہ جنگ آمد، پھر تو جنگ ہی ہوگی، مشرقی سرحد ہو یامغربی سرحد، ایک ہی دشمن بیٹھا ہے، کوئی تفریق نہیں ہے، دہشت گردی کیخلاف جنگ پاکستان، تمام صوبوں اور ملک کی بقا کی جنگ ہے، پاکستان کے خلاف جنگ کابل حکومت کے ذریعے لڑی جا رہی ہے،پاکستان کے حوالے سے اس وقت دہلی اور کابل میں کوئی تفریق نہیں، پاکستان کی مسلح افواج بلتستان سے لیکر گوادر تک پاکستان کیلئے شہادتیں دے رہی ہیں۔بدھ کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے اراکین کے اٹھائے گئے نکات کاجواب دیتے ہوئے وزیردفاع خواجہ محمدآصف نے کہاکہ یہ بات خوش آئند ہے کہ اس وقت دہشت گردی کے معاملہ پروفاق خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ ہے، نقصان ہمارا ایک ہے، پاکستان نے کابل حکومت کے ساتھ طویل مذاکرات کئے ہیں مگروہ اپنی سرزمین کوپاکستان کے خلاف استعمال نہ کرنے کے حوالہ سے کسی قسم کے تحریری تعاون کیلئے تیارنہیں ہے،اس وقت افغانستان کی حکومت بھارت اور ہندواتواکی پراکسی بن گئی ہے، معرکہ حق میں شکست کے بعدبھارت اللّٰہ تعالی کے فضل وکرم سے پاکستان کیخلاف براہ راست تصادم کی جرات نہیں کریگا،اب پاکستان کے خلاف ساری جنگ کابل حکومت کے ذریعہ لڑی جارہی ہے۔