کراچی(اسٹاف رپورٹر) پنکی کراچی میں پیدا ہوئی،بھائیوں کے ساتھ ملکر کوکین سپلائی کا نیٹ ورک بنایا، ملزمہ کراچی کے علاقہ جمشید کوارٹرز کی رہائشی تھی وہاں سے ابولحسن اصفہانی روڈ ،گلستان جوہر پھر لاہور منتقل ہوگئی، انمول ماڈل بننا چاہتی تھی اس سلسلے میں وہ کم عمری میں گھر سے نکلی اور شہر میں بڑی بڑی پارٹیوں میں جانا شروع کردیا، وکیل سے طلاق کے بعدپولیس افسر سے شادی کی،پانچ سال قبل پنجاب پولیس نےگرفتار کیارشوت دیکر چھوٹ گئی۔ پنکی لاہور سے خواتین کے ذریعے ٹرین سے کوکین کے پیکٹ کراچی بھیجواتی تھی تفصیلات کے مطابق کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی نے اپنے بھائیوں کے ساتھ ملکرکوکین سپلائی کا نیٹ ورک بنایا،انمول نے کوکین بنانے کا طریقہ انٹرنیٹ سے سیکھااور باقاعدہ کوکین کا اپنا ایک برانڈ بنایا،تفتیشی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انمول پنکی نے شروع میں اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ ملکر کوکین کا کام شروع کیا جو ایک وکیل تھاا اور عالمی کوکین گینگ میں کام کرتا تھا،انمول کراچی کے علاقہ جمشید کوارٹرز کی رہائشی تھی جہں سے سے ابولحسن اصفہانی روڈ ،گلستان جوہر اور پھر لاہور منتقل ہوگئی ،انمول ماڈل بننا چاہتی تھی اس سلسلہ میں وہ کم عمری میں گھر سے نکلی اور شہر میں بڑی بڑی پارٹیوں میں جانا شروع کردیا،جہاں پر انمول نے منشیات کے استعمال اور سپلائی کے طریقہ کار کو دیکھ کر اس فیلڈ میں آنے کی منصوبہ بندی کی،انمول نے اپنے وکیل شوہر سے طلاق کے بعد ایک پولیس افسر سے شادی کی،پنکی نے تیزی سے اپنا کوکین کا نیٹ ورک قائم کیا اورپاکستان کی سب سے بڑی کوکین ڈیلر بن گئی،ملزمہ نے دوران تفتیش حکام کو یہ بتایا ہے کہ وہ پانچ سال قبل پنجاب پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوئی تھی تاہم انہوں نے بھاری رشوت دے کر خود کو چھڑوایا، پنکی لاہور سے خواتین کے ذریعے ٹرین سے کوکین کے پیکٹ کراچی بھیجواتی تھی،اسٹیشن سے بائیک رائیڈرز منشیات کے الگ الگ پیکٹ لے کر ڈیلرز تک پہنچاتے تھے، ڈیلرز کی مدد سے کوکین شہریوں کو بھیجی جاتی، پیسے اکاؤنٹ سے ٹرانسفر ہوتے تھے، ملزمہ انمول عرف پنکی کے نیٹ ورک میں کوئی ایک دوسرے سے نہیں ملتا تھا۔ملزمہ انمول پنکی نے گلگت میں ایک ہوٹل بھی بنا رکھا ہے، گروپ میں اس کے بھائی ناصر کی گرل فرینڈ بھی شامل ہے، بھائی کی گرل فرینڈ کی مدد سے کراچی کی پارٹیوں میں کوکین سپلائی کی جاتی رہی ہے۔پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع پر گارڈن ویسٹ کے ایک فلیٹ پر چھاپا مارا گیا، جہاں ایک خاتون مبینہ طور پر منشیات تیار کرکے فروخت کررہی تھی۔ چھاپے کے دوران ملزمہ کوکین ڈیلر انمول عرف کو گرفتار کرکے فلیٹ سے 1540 گرام کوکین اور 6970 گرام مختلف کیمیکل اور خام مال برآمد کیا گیا۔ ملزمہ کے قبضے سے برآمد کیا گیا بیکنگ پاؤڈر، ایفیڈرین، کیٹامین اور کوکین ہائیڈرو کلورائیڈ بھی قبضے میں لیا گیا۔ ملزمہ کے قبضے سے ایک پستول، 2 میگزین اور 10 راؤنڈ بھی برآمد ہوئے، تاہم وہ اسلحے کا لائسنس پیش نہ کرسکی۔پولیس کے مطابق فلیٹ سے نقد رقم، موبائل فون، بلینک چیک اور دیگر اشیاء بھی تحویل میں لی گئی ہیں ، ملزمہ طلبا اور اہم شخصیات کو منشیات سپلائی کرتی تھی، نیٹ ورک اسلام آباد اور لاہور تک پھیلا ہوا ہے۔وہ پاکستان کی مہنگی ترین کوکین خود بناتی تھی۔ملزمہ کی حاصل کردہ پروفائل کے مطابق اس کا نام انمول عرف پنکی دختر مراد بخش ہے۔ملزمہ سال 1995 میں کراچی میں پیدا ہوئی۔وہ دو نمبر استعمال کرتی تھی۔انمول کے دو موجودگی پتے ہیں جن میں ایک خیابان ظفر سوسائٹی رائیونڈ روڈ لاہور جبکہ دوسرا اے ون کمپلیکس ابوالحسن اصفہانی روڈ گلشن اقبال فلیٹ نمبر سی ون ایسٹ کراچی شامل ہے۔ملزمہ کا مستقل پتا بلوچ پاڑہ مکان نمبر 180 جہانگیر روڈ کراچی ہے۔ملزمہ مڈل پاس ہے اور اس نے گورنمنٹ گرلز اسکول سہراب گوٹھ سے تعلیم حاصل کی۔ملزمہ کے 3 بھائی ہیں جن میں ناصر، ریاض اور شوکت شامل ہیں۔ملزمہ کی قومیت بلوچ ( رند ) ہے۔ملزمہ نے دو سابق شوہر تھے جن میں ایک ریٹائر پولیس افسر بھی شامل تھا۔ملزمہ کے سابق شوہروں میں رانا ناصر اور رانا اکرم( ریٹائر پولیس آفیسر ) شامل ہیں۔انمول عرف پنکی سال 2006 میں 12 برس کی عمر میں ماڈلنگ اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں کیرئیر بنانے کے لئے لاہور منتقل ہوئی۔لاہور میں مینار پاکستان پر وہ عائشی نامی ایک لڑکی سے ملی جس سے انمول نے رہنے کے لئے جگہ مانگی۔عاشی نے اسے اپنے گھر جو کہ کریم پارک ڈی ایچ اے لاہور میں واقع تھا میں آ کر رہنے کا کہا جس کے بعد انمول عاشی کے ساتھ اس کے گھر پر رہنے لگی۔انمول نے بتایا کہ وہ تین ماہ تک فلم ڈائریکٹر کے پاس جاتی رہی جو اسے کسی چیز کی بھی ادائیگی نہیں کر رہا تھا۔مذکورہ ڈائریکٹر کے دفتر میں اس کی ملاقات رانا ناصر نامی شخص سے ہوئی۔