• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسسٹنٹ کمشنر کی خاتون ڈاکٹر سے مبینہ سخت لہجے میں باز پرس پر ڈاکٹروں میں تشویش

ملتان(سٹاف رپورٹر) بورے والا تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے ایک خاتون ڈاکٹر سے مبینہ سی ٹی سکین، علاج معالجہ کے معاملہ پر مبینہ سخت لہجے میں باز پرس سے ڈاکٹروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، طبی حلقے اسٹنٹ کمشنر کے خاتون ڈاکٹر سے اس رویہ کو نامناسب اور اختیار سے تجاوزقراردے رہے ہیں ، واقعہ کے بعد ڈاکٹرز کی مختلف تنظیموں اور سوشل میڈیا گروپس میں سرکاری قواعد و ضوابط اور انتظامی اختیارات سے متعلق دستاویزات شیئر کی جا رہی ہیں، جن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر انتظامی نگرانی کا اختیار رکھتے ہیں تاہم وہ طبی امور، تشخیص، علاج اور کلینیکل فیصلوں میں مداخلت کے مجاز نہیں،ڈاکٹروں کی جانب سے شیئر کئےگئے پیغامات میں کہا گیا ہے کہ پنجاب انفیکشس ڈیزیز ایکٹ اور رولز آف بزنس 2011 کے تحت اسسٹنٹ کمشنر کا دائرہ اختیار ہسپتالوں میں حاضری، صفائی، ادویات کی دستیابی اور عمومی انتظامی امور تک محدود ہے، جبکہ طبی فیصلوں اور علاج معالجہ کا جائزہ صرف متعلقہ میڈیکل ماہرین ہی لے سکتے ہیں،ڈاکٹرز کے مطابق پی ایم اینڈ ڈی سی ایکٹ اور پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت کسی ڈاکٹر کے خلاف کارروائی یا تادیبی اختیار محکمہ صحت کے مجاز حکام کے پاس ہے، جبکہ کسی بھی افسر کو سرکاری ملازم کی تضحیک یا ہراساں کرنے کی اجازت نہیں،میڈیکل حلقوں کا کہنا ہے کہ سرکاری افسران اور ڈاکٹرز کو اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے باہمی احترام اور پیشہ ورانہ وقار کو برقرار رکھنا چاہیے تاکہ مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
ملتان سے مزید