عیدالاضحیٰ کی صُبح شہر کے درودیوار تکبیراتِ تشریق سے گونج رہے تھے۔ فضا میں ایک عجیب سی چہل پہل اور عقیدت کا رنگ گُھلا مِلا ہوا تھا۔ تسلیم صاحب عید کی نماز ادا کرنے کے بعد جب گھر لوٹے تو چہرے پر اطمینان کی ایک لہر تھی، شاید اس لیے کہ قربانی کے انتظامات وغیرہ سے سُرخ رُو ہو چُکے تھے۔
ابھی اُنہوں نے صحن میں قدم رکھا ہی تھا کہ باورچی خانے سے زبیدہ بیگم کی آواز آئی۔ ’’اِس بار بھی قربانی کے بڑے جانور ہی میں حصّہ ڈالا ہے ناں، تو ذرا جلدی لینے چلے جائیے گا۔ پچھلی بار بھی دیر کردی تھی، تو ہمارے حصّے میں ہڈیاں زیادہ ڈال دی گئی تھیں۔‘‘
جواباً تسلیم صاحب صوفے پر بیٹھ کے، میز پر رکھی برفی کی پلیٹ سے ایک ٹکڑا اُٹھا کر منہ میں رکھتے ہوئے اطمینان سے بولے۔ ’’مَیں نے رحیم کو پرچی دے دی ہے۔ اُس پر جانور کا نمبر اور حصہ نمبر وغیرہ سب واضح لکھا ہے۔ میرے خیال میں ایک بجے تک حصّہ مل جائے گا، آخر اجتماعی قربانی ہے، تھوڑا وقت تو لگتا ہی ہے۔‘‘
رحیم، اُن کا بڑا بیٹا، جو صُبح ہی سے قربان گاہ میں موجود تھا، دو بجے کے قریب گوشت کا بھاری بورا لے کر گھر داخل ہوا۔ دھوپ کی تمازت اور ہجوم کی وجہ سے اُس کا چہرہ پسینے سے شرابور تھا، مگر گوشت گھر پہنچانے کی خوشی چہرے سے عیاں تھی۔
زبیدہ بیگم نے صحن کےایک گوشے میں سفید صاف ستھری چادر پہلے ہی بچھا رکھی تھی تاکہ گوشت کی تقسیم میں دیر نہ ہو۔ اُن کا ارادہ تھا کہ فوراً حصّے کر کے فارغ ہوں تاکہ کچن کی ذمّےداریاں سنبھال سکیں۔ بورے سے گوشت چادر پر انڈیل دیا گیا۔ تازہ گوشت کی مہک پورے صحن میں پھیل گئی۔
زبیدہ بیگم نے چُھری پکڑی اور مہارت سے گوشت کے ڈھیر کو تین حصّوں میں تقسیم کرنا شروع کیا۔ اِسی دوران گلی سے دو چھوٹے پیکٹ بھی آچُکے تھے، جو شاید کسی عزیز یا پڑوسی نے بھیجے تھے۔ زبیدہ بیگم نے ان پیکٹس کو دیکھتے ہی سوچا۔ ’’اِن کا تو بہترین پلاؤ بنےگا، بچّے بھی خوش ہوجائیں گے۔‘‘ تیزی سے ہاتھ چلا رہی تھیں۔ تھوڑی ہی دیر میں چادر پر گوشت کی تین ڈھیریاں نمایاں ہوگئیں۔
اُنہوں نے رحیم کو آواز دی، جو ہاتھ منہ دھو کر ابھی کمرے سے نکلا تھا۔ ’’بیٹا! دیکھو میں نے تین حصّے کر دیئے ہیں۔ یہ والا حصّہ ہمارا ہے، یہ ہم سایوں اور رشتے داروں کا، اور وہ کونے والا حصّہ غریبوں اور مستحقین کا۔‘‘ زبیدہ بیگم نے باقاعدہ انگلی کے اشارے سے وضاحت کی۔ جب وہ اپنا حصّہ اٹھا کر بڑے برتن میں ڈالنے لگیں تو اُن کی بڑی بیٹی صائمہ، جو کافی دیر سےخاموشی سے یہ سب دیکھ رہی تھی، بالآخر بول ہی پڑی۔ ’’امّاں! یہ آپ نے تین حصّے کیے ہیں؟‘‘
زبیدہ بیگم، جو صُبح کی تھکاوٹ اور گرمی کی وجہ سے پہلے ہی جھنجھلائی ہوئی تھیں، چڑ کر بولیں۔ ’’تو اور کیا، پانچ کیے ہیں؟ اب تم مجھے تقسیم سکھاؤ گی؟‘‘صائمہ نے نرمی، مگر استقامت سے جواب دیا۔ ’’نہیں امّاں، میرا مطلب ہے کہ ذرا اِن حصّوں کی ترتیب تو دیکھیے۔ آپ نے اپنا حصّہ تھوڑا بڑا رکھا ہے اور اس میں صاف ستھری، بغیر ہڈی کی بوٹیاں زیادہ ہیں، جب کہ غریبوں کا جو حصّہ نکالا ہے، اس میں ہڈیاں اور چربی نمایاں ہے۔ کیا یہ واقعی برابری کی تقسیم ہے؟‘‘
زبیدہ بیگم کا ہاتھ رُک گیا۔ انہوں نے ایک لمحے کے لیے اپنی بیٹی کو دیکھا اور پھر حصّوں کی طرف نظر دوڑائی اور اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے بولیں۔ ’’بیٹی! ہم نے اتنے پیسے خرچ کیے ہیں، سارا سال انتظار کیا ہے۔ تھوڑا اچھا گوشت گھر کے لیے رکھ لیا تو کیا ہوا؟ آخر ہم نے بھی تو کھانا ہی ہے۔‘‘
صائمہ نے ایک گہری سانس لی اور اپنی ماں کے قریب آ کر بیٹھ گئی۔ اس کی آواز میں گہری سنجیدگی تھی، جس نے گھر کے باقی افراد کو بھی متوجّہ کر لیا۔ ’’امّاں! مجھے آپ کی یہ بات عجیب نہیں لگی کہ یہ صرف آپ کا طریقہ نہیں ہے، ہم سبھی گوشت کی تقسیم میں یہی کچھ کرتے ہیں۔ ہماری نظریں قربانی کی رُوح کے بجائے گوشت کی بوٹیوں پر جمی رہتی ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ تک یہ گوشت نہیں پہنچتا، بلکہ ہمارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘
صائمہ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ’’جس عظیم ہستی یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد میں ہم یہ سُنّت ادا کر رہے ہیں، اُنہوں نے تو اپنے جگر گوشے کو اللہ کی راہ میں پیش کر دیا تھا۔ کیا اُن کی قربانی میں ’’بہترین‘‘ اور ’’کم تر‘‘ کا کوئی سوال تھا؟ وہ تو اپنا سب سے قیمتی اثاثہ قربان کر رہے تھے، اور ہم؟ ہم ایک جانور میں حصّہ ڈال کر بھی اُس میں سے بہترین اپنے لیے بچانے کی فکر میں دبلے ہوئے جاتے ہیں۔ اے کاش! کہ ہم قربانی کا حقیقی مفہوم سمجھ سکتے کہ اللہ کی راہ میں وہ دیا جاتا ہے، جو ہمیں خُود پسند ہو، نہ کہ وہ جو بچ جائے یا جس کی ہمیں ضرورت نہ ہو۔‘‘
صحن میں اچانک خاموشی چھا گئی۔ تسلیم صاحب نے جو اخبار پڑھ رہے تھے، عینک اتار کر صائمہ کی طرف دیکھا۔ رحیم بھی خاموش کھڑا سوچ میں ڈوب گیا، جب کہ زبیدہ بیگم کی نظریں اُن ہی تین حصّوں پر جمی تھیں۔ اُنہیں اپنی بیٹی کی باتوں میں ایک آئینہ نظر آ رہا تھا، جس میں اُن کی اپنی چھوٹی سی خود غرضی واضح ہو رہی تھی۔
اگلے دس منٹ خاموشی اور عمل کے تھے۔ زبیدہ بیگم نے خُود ہی تینوں حصّوں کو دوبارہ ملایا اور اب کی بار نہایت دیانت داری سے تینوں کو برابر برابر حصّوں میں تقسیم کیا۔ اُنہوں نے بہترین بوٹیاں غریبوں والے حصّے میں بھی ڈالیں اور ہڈیوں کو متوازن تقسیم کیا۔ اب چادر پر موجود تینوں ڈھیریاں بالکل ایک جیسی نظر آ رہی تھیں۔
گوشت کے تھیلے تیار ہوگئے، تو زبیدہ بیگم کے چہرے پر ایک ایسا سُکون تھا، جو صُبح سے غائب تھا۔ یہ اُن کا پہلا قدم تھا، جو رسم و رواج کی قربانی سے نکل کر ’’قربانی‘‘ کے اصل اور حقیقی رستے کی طرف جاتا تھا۔ اُنہوں نے صائمہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور مُسکراتے ہوئے بولیں۔ ’’بیٹی! آج تم نے میری قربانی مکمل، قبول کروا دی۔‘‘