کراچی( خالد محبوب…اسٹاف رپورٹر) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں نئے انتخابات کرائے جانے چاہئیں اس قبل انتخابی اصلاحات لائی جائیں ،مہنگائی کے خلاف 22مئی کو جے یو آئی کی ملک گیر ہڑتال ہوگی ،دیہی سندھ میں ڈاکوؤں کا راج قائم ہے،خیبرپختونخوااور بلوچستان کی صورتحال بغاوت کا رخ اختیار کر چکی ہے۔آج ملک میں بدامنی عروج پر ہے،موجودہ الیکشن کمیشن کے تحت صاف شفاف انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے۔ کراچی پریس کلب کے پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کہیں علیحدگی کی باتیں ہو رہی ہیں تو کہیں بزورِ شمشیر شریعت نافذ کرنے کے نعرے لگ رہے ہیں، پاکستان اس وقت سنگین سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے، جبکہ حکمران عوامی مسائل، امن و امان اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں دوبارہ آزاد، شفاف اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں تاکہ حقیقی عوامی نمائندگی سامنے آسکے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکمران طبقات نہ امن و امان کے قیام میں سنجیدہ ہیں اور نہ ہی عوامی معاشی مسائل کے حل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔عام آدمی اپنی محنت کی کمائی سے بچوں کی تعلیم اور دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے سے بھی قاصر ہے، مہنگائی کے بوجھ تلے عوام کو مسلسل دبایا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی حالات کو جواز بنا کر عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’خدارا اس روش سے باز آجائیں اور ریاستی اداروں کو اتنا مضبوط نہ بنایا جائے کہ پارلیمنٹ بے معنی ہو کر رہ جائے۔‘‘مولانا فضل الرحمان نے 2018ء اور 2024ء کے عام انتخابات کےحوالےسےکہا کہ عوامی رائے کو تبدیل کیا گیا اور مرضی کی حکومتیں قائم کرنے کے لئے نتائج کو عوامی خواہشات کے برعکس بنایا گیا۔