• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بے اولاد جوڑوں کو بچہ گود دینے کیلئےآن لائن فراڈ

کراچی (افضل ندیم ڈوگر ) بچوں کو گود لینے کی اسکیم کے جعلی فارم سوشل میڈیا پر وائرل کرکے بے اولاد جوڑوں کو بچے گود دینے کے نام پر بھی فراڈ شروع ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں کئی شہری رقوم سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ حب ڈیم کے رہائشی میر احمد کی شادی کو 20 سال ہوگئے ہیں مگر اولاد نہیں انہوں نے بتایا کہ انہیں واٹس ایپ پر ایک فارم موصول ہوا جس میں بچہ گود دینے کیلئے تفصیلات مانگی گئیں۔ انہوں نے فارم بھر کر واٹس ایپ پر بھیج دیا تو فون آیا کہ بچے کا انتظام ہوگیا ہے۔ 2 گھنٹے میں ان کے گھر بھجوا دیا جائے گا۔ میر احمد کے مطابق پھر فون آیا کہ بچہ بھجوا دیا گیا ہے اور ڈلیوری اخراجات کے لیے 5590 روپے آن لائن بھیج دیں۔ میر احمد کے مطابق انہوں نے رقم بھیج دی تو انہیں بتایا گیا کہ آج دفتر بند ہوگیا ہے۔ بچہ کل کاغذی کارروائی کے بعد دیں گے۔ اگلے دن دوسرے فراڈیئے نے وکیل ظاہر کرکے فون کیا کہ ان بچے کا برتھ سرٹیفیکیٹ اور دیگر دستاویزات تیار کی جارہی ہیں جس کیلئے میاں بیوی کے شناختی کارڈ کی تصاویر مانگی گئیں۔ وکیل نے اس مد میں بھی 15 ہزار کی فیس لائن بھیجنے کا کہا جس پر انہیں شک ہوا۔ میر احمد نے رفاہی اداروں کے دفاتر فون کرکے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ بچے آن لائن دینے کا کوئی سلسلہ سرے سے موجود ہی نہیں اور ایسا فراڈ کیا جارہا ہے۔ ایک ادارے کے ترجمان نے بتایا کہ بچے گود لینے کا فراڈ ہو رہا ہے۔ دوسرے ادارے کے ترجمان نے اس نمائندے کو بتایا کہ ان کے پاس بھی کئی لوگ آکر بتارہے ہیں کہ ان کے ساتھ فراڈ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بچہ گود دینے کیلئے بہت چھان بین کی جاتی ہے۔

اہم خبریں سے مزید