پشاور (ارشد عزیز ملک) قومی احتساب بیورو (نیب) نے کوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں بڑی پیش رفت کرتے ہوئے 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے برآمد شدہ اثاثے خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے کر دیے ہیں۔ یہ اثاثے ایک خصوصی تقریب میں چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کے سپرد کیے۔نیب کے مطابق ابتدائی مرحلے میں حوالے کیے گئے اثاثوں کی مجموعی مالیت 6 ارب روپے سے زائد ہے، جن میں 5 ارب روپے نقد رقم، 1 کلو گرام سونا، 12 لگژری گاڑیاں اور 18 قیمتی جائیدادیں شامل ہیں۔ یہ تمام اثاثے طویل اور منظم تحقیقات کے نتیجے میں برآمد کیے گئے ہیں۔تقریب کے دوران ڈی جی نیب خیبرپختونخوا فرمان اللہ نے کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ضلع کوہستان کا سالانہ بجٹ 50 کروڑ روپے سے بھی کم ہے، تاہم اس پسماندہ ضلع میں جعلی کمپنیوں، فرضی ٹھیکیداری نظام اور منظم مالیاتی نیٹ ورک کے ذریعے سرکاری وسائل کو بڑے پیمانے پر لوٹا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں سامنے آنے والا مالیاتی ڈھانچہ انتہائی پیچیدہ اور منظم تھا۔ڈی جی نیب کے مطابق تحقیقات کے دوران 1500 سے زائد بینک اکاؤنٹس کا فرانزک اور مالیاتی تجزیہ کیا گیا، جبکہ اب تک 27 ارب روپے مالیت کے اثاثے منجمد کیے جا چکے ہیں۔ اس کیس میں 41 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ مزید گرفتاریوں اور تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن ملکی تاریخ کے بڑے اسکینڈلز میں سے ایک ہے، جس میں سرکاری فنڈز سے 37ارب روپے سے زائد کی خردبرد اور غبن کا انکشاف ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے جدید فرانزک اور مالیاتی تحقیقاتی طریقوں کے ذریعے اس پیچیدہ کیس کو بے نقاب کیا۔