• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

منشیات کا بڑھتا رجحان، ایک کثیر الجہتی قومی بحران

دنیا ہر سال26جون کو منشیات اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن مناتی ہے۔ اِس ضمن میں سال2026ء کا موضوع’’ Health for Justice, Justice for Health‘‘ غیر معمولی اہمیت کا حامل پیغام ہے۔ یہ موضوع اِس حقیقت کا عکّاس ہے کہ منشیات کا بڑھتا رجحان نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے چیلنج اور صحتِ عامہ کا مسئلہ ہے، بلکہ انصاف، انسانی وقار، سماجی بہبود اور صحت کے مابین ایک گہرا تعلق بھی موجود ہے۔

پاکستان کے لیے یہ موضوع خاص طور پر اِس لیے اہم ہے کہ ہمارا مُلک ایک ایسے خطّے میں واقع ہے، جہاں منشیات کی پیداوار، ترسیل اور غیر قانونی تجارت کئی دہائیوں سے علاقائی اور عالمی تشویش کا باعث ہے۔ نتیجتاً پاکستان کو اسمگلنگ، منشیات کے بڑھتے استعمال، ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ اور سماجی تنزلّی جیسے متعدّد چیلنجز کا بیک وقت سامنا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، دنیا بَھر میں کروڑوں افراد کسی نہ کسی شکل میں غیر قانونی منشیات استعمال کر رہے ہیں، جب کہ گزشتہ ایک دہائی کے دَوران منشیات کے استعمال میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا اور مصنوعی منشیات کی بڑھتی دست یابی نے صُورتِ حال مزید پیچیدہ کر دی ہے۔ دنیا بَھر میں کوکین، میتھ ایمفیٹامین، ہیروئن اور دیگر مصنوعی منشیات کی پیداوار اور تجارت ریکارڈ سطح تک پہنچ چُکی ہے۔

بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس منشیات کی تجارت سے اربوں ڈالرز کماتے ہیں، جس کے نتیجے میں بدعنوانی، تشدّد، انسانی اسمگلنگ اور دیگر جرائم کو بھی فروغ ملتا ہے۔ اِس عالمی بحران کا اثر صرف ترقّی پذیر ممالک تک محدود نہیں، بلکہ ترقّی یافتہ ممالک بھی اِس کی لپیٹ میں ہیں۔ پاکستان میں منشیات کے استعمال کے ضمن میں دست یاب مطالعات ظاہر کرتے ہیں کہ یہاں70 لاکھ سے زائد افراد منشیات کے استعمال سے متاثر ہیں۔ گرچہ جامع قومی سطح کے تازہ اعداد و شمار محدود ہیں، تاہم مختلف قومی اور بین الاقوامی جائزے اِس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ شدید مسئلہ بدستور موجود ہے اور کئی حوالوں سے پیچیدہ بھی ہوتا جا رہا ہے۔

پاکستان میں منشیات کا استعمال اب کسی ایک طبقے یا علاقے تک محدود نہیں رہا۔ دیہات سے لے کر شہری مراکز تک، کم آمدنی والے طبقات سے لے کر متوسّط اور متمول طبقات تک، اِس لت کے اثرات مختلف شکلوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف منشیات استعمال کرنے والے فرد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے اثرات خاندان، نظامِ صحت، تعلیمی اداروں، معیشت اور سماجی استحکام تک پہنچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ منشیات کو اب ایک کثیر الجہتی قومی بحران تصوّر کیا جا رہا ہے۔

منشیات کے بڑھتے رجحان کا تقابلی جائزہ:دنیا اور پاکستان، دونوں منشیات کے بڑھتے بوجھ سے گزر رہے ہیں، لیکن رفتار، نوعیت اور شدّت میں فرق واضح ہے۔ UNODC کی 2025ء کی عالمی رپورٹ بتاتی ہے کہ2013 ء سے2023ء تک دنیا بھر میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد20 فی صد بڑھ کر31 کروڑ60 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ یعنی ہر17 میں سے ایک شخص منشیات استعمال کرتا ہے۔

عالمی سطح پر6 کروڑ40 لاکھ افراد’’منشیات کے استعمال کی خرابی‘‘ (Drug Use Disorder) یا نشے کی بیماری کا شکار ہیں، لیکن صرف گیارہ میں سے صرف ایک فرد ہی علاج تک رسائی حاصل کر پاتا ہے۔2021 ء میں منشیات نے5 لاکھ سے زیادہ جانیں لیں اور3 کروڑ 90 لاکھ’’صحت مند زندگی کے سال‘‘ ضائع کر دیئے۔

سب سے زیادہ بوجھ25 تا29 سال کے نوجوانوں پر ہے، جو عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ سوئی کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والے تقریباً ایک کروڑ56 لاکھ افراد میں ایچ آئی وی کی عالمی شرحِ پھیلاؤ 17.8 فی صد، ہیپاٹائٹس-سی کی50 فی صد سے زائد، جب کہ ہیپاٹائٹس-بی کی تقریباً8 فی صد ہے۔ نیز، خواتین PWID (People Who Inject Drugs)میں ایچ آئی وی کا خطرہ مَردوں کے مقابلے میں تقریباً دُگنا پایا گیا۔ عالمی سطح پر مسئلہ’’زیادہ صارفین اور کم علاج‘‘ کا ہے۔

پاکستان کا منظرنامہ اِس عالمی تصویر کا ایک تیز تر اور زیادہ خطرناک ورژن پیش کرتا ہے۔2013 ء کے قومی سروے کے مطابق، پاکستان میں تقریباً67 لاکھ افراد منشیات استعمال کر رہے تھے، جن میں چرس اور ہیروئن غالب تھیں، جب کہ آئس تب ایک نیا اور محدود نشہ سمجھا جاتا تھا اور اِس عرصے میں PWID کی تعداد تقریباً4 سے5 لاکھ تھی، جب کہ انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والوں میں ایچ آئی وی کی شرح20 فی صد سے تجاوز کر چُکی تھی۔

مزید تشویش ناک امر یہ تھا کہ2013 ء میں عالمی سطح پر تقریباً24 کروڑ60 لاکھ افراد منشیات استعمال کرتے تھے، جن میں سے تقریباً2 کروڑ70 لاکھ (11 فی صد) افراد ڈرگ یوز ڈس آرڈر یا منشیات پر انحصار کا شکار تھے، جب کہ پاکستان میں67لاکھ منشیات استعمال کرنے والوں میں سے تقریباً42 لاکھ50 ہزار افراد (63فی صد) ایسے تھے، جنہیں علاج، بحالی اور طبّی معاونت کی ضرورت تھی۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں منشیات استعمال کرنے والوں کا ایک غیر معمولی حصّہ صرف تجرباتی یا تفریحی استعمال تک محدود نہیں تھا، بلکہ نشے کی بیماری کی سنگین سطح تک پہنچ چُکا تھا۔ عالمی سطح پر ہر100 منشیات استعمال کرنے والوں میں سے تقریباً11 افراد نشے پر انحصار کا شکار تھے، جب کہ پاکستان میں یہ تعداد 63 افراد تک پہنچ جاتی ہے۔

دوسرے الفاظ میں، پاکستان میں منشیات استعمال کرنے والے افراد کے ’’Drug Dependence‘‘ میں مبتلا ہونے کا تناسب عالمی اوسط سے تقریباً چھے گُنا زیادہ تھا۔ یہ فرق نہ صرف منشیات کے زیادہ نقصان دہ استعمال کی نشان دہی کرتا ہے، بلکہ علاج و بحالی کی محدود سہولتوں، سماجی و معاشی محرومیوں، ذہنی صحت کے مسائل اور مؤثر روک تھام کی کمی کی بھی عکّاسی کرتا ہے۔ تاہم، 2024 ء اور2025 ء کے دوران دست یاب شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں منشیات کے استعمال کی نوعیت مزید تبدیل ہو چُکی ہے۔

گرچہ مختلف ذرائع منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد70لاکھ سے زائد بتاتے ہیں، لیکن پاکستان کا 2022ء/2024ء کا ڈرگ یوز سروے ابھی تک شائع نہیں ہوا، اِس لیے حقیقی تعداد اِس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ موجودہ بحران کا سب سے خطرناک پہلو آئس (Methamphetamine) کا تیزی سے پھیلاؤ ہے۔ 2018ء سے قبل یہ منشیات تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی، لیکن چند ہی برسوں میں اس کا استعمال300 فی صد تک بڑھ چُکا ہے اور اب یہ ہیروئن کے بعد دوسری بڑی استعمال ہونے والی منشیات ہے۔

2025 ء کے ایک ریویو کے مطابق، نوجوانوں میں ہیروئن اب بھی48 فی صد کیسز کا سبب ہے، لیکن آئس اپنی کم قیمت، آسان دست یابی، فوری نفسیاتی اثرات اور شدید لت پیدا کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے مارکیٹ پر تیزی سے چھا رہی ہے۔ یہ بڑھتا رجحان پاکستان میں PWID کے بوجھ کو عالمی اوسط سے بھی زیادہ سنگین بنا رہا ہے۔ 2016/17 کے IBBS سروے نے دِکھایا کہ پاکستان میں سوئی کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والوں میں ایچ آئی وی کی شرح38.4 فی صد تک پہنچ گئی تھی، جب کہ ہیپاٹائٹس-سی کی شرح تقریباً52 فی صد اور ہیپاٹائٹس-بی کی شرح تقریباً7 فی صد ریکارڈ کی گئی، یعنی ایچ آئی وی کی شرح عالمی اوسط17.8 فی صد سے دُگنی سے بھی زیادہ تھی۔ NACP کے ستمبر2025 ء کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں ایچ آئی وی کے81,187 مریض رجسٹرڈ ہیں، لیکن UNAIDS کا تخمینہ2 لاکھ10 ہزار سے زائد کا ہے اور ماہرین کے مطابق، اِس وبا کے پھیلاؤ میں PWID مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

نوجوانوں میں منشیات کا بڑھتا رجحان پاکستان کے لیے ایک اور بڑا خطرہ بن کر بھی اُبھر رہا ہے۔ جہاں عالمی سطح پر25 تا29 سال کی عُمر کے افراد سب سے زیادہ متاثرہ گروہ تصوّر کیے جاتے ہیں، وہیں پاکستان میں منشیات کے استعمال کا آغاز اس سے کہیں کم عُمری میں ہو رہا ہے۔ 2024 ء کے ایک سروے میں کراچی کے44 فی صد طلبہ نے زندگی میں کم از کم ایک بار منشیات آزمانے کا اعتراف کیا، جب کہ طالبات میں یہ شرح31 فی صد تک رپورٹ ہوئی۔

مزید برآں، تقریباً35 فی صد عادی افراد نے18 سال کی عُمر سے پہلے ہی منشیات کا استعمال شروع کر دیا تھا۔ یہ رجحان اِس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ منشیات کا مسئلہ اب تعلیمی اداروں، نوعُمروں اور خواتین تک پھیل چکا ہے۔ فرق یہ ہے کہ دنیا میں منشیات صحت، معیشت اور سماج پر بوجھ ڈال رہی ہیں، لیکن پاکستان میں یہ بوجھ’’نوجوان افرادی قوّت کے خاتمے‘‘ کی شکل اختیار کر رہا ہے۔

اندازاً منشیات، پاکستان کی نوجوان افرادی قوّت، علاج معالجے کے اخراجات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سالانہ180 ارب روپے سے زیادہ کا بوجھ ڈال رہی ہے، جب کہ علاج کی سہولت آج بھی صرف12 میں سے ایک عادی فرد کو مل پاتی ہے، جو عالمی اوسط یعنی11 میں سے ایک فرد سے بھی بدتر صُورتِ حال کی عکّاس ہے۔

عالمی سطح پر خواتین PWID کو علاج تک رسائی میں مختلف رکاوٹوں کا سامنا ہے، جب کہ پاکستان میں منشیات استعمال کرنے والی خواتین کی شرح بعض مطالعات میں31 فی صد تک رپورٹ ہوئی ہے، لیکن Gender-Responsive علاج، بحالی کے مراکز اور قابلِ اعتماد اعداد و شمار کی شدید کمی موجود ہے۔ بین الاقوامی تناظر میں پاکستان کے شواہد واضح کرتے ہیں کہ یہاں یہ بحران زیادہ تیز رفتار، زیادہ نوجوان اور زیادہ انجیکشن پر مبنی شکل اختیار کر چُکا ہے۔

پاکستان کی مستقل آزمائش: پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے منشیات کی عالمی ترسیل کے نیٹ ورکس کے لیے اہم بناتا ہے، جسے افغانستان کے ساتھ طویل سرحد اور خطّے کی پیچیدہ صُورتِ حال مزید حسّاس بنا دیتی ہے۔ منشیات کی اسمگلنگ اب چند افراد کی سرگرمی نہیں رہی، بلکہ ایک منظّم بین الاقوامی کاروبار بن چُکی ہے۔ یہ نیٹ ورکس جدید ٹیکنالوجی، مالی وسائل اور پیچیدہ ترسیلی راستوں کا استعمال کرتے ہیں۔ پاکستانی قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر سال بڑی مقدار میں منشیات ضبط کرتے ہیں، لیکن ضبط شدہ مقدار دراصل اِس بڑے کاروبار کا صرف ایک حصّہ ہوتی ہے۔

منشیات کے بدلتے رجحانات: روایتی طور پر چرس، افیون اور ہیروئن زیادہ استعمال ہونے والی منشیات سمجھی جاتی تھیں، لیکن گزشتہ چند برسوں میں مصنوعی منشیات کا رجحان نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ خصوصاً آئس نوجوان نسل کے لیے ایک بڑا خطرہ بن کر سامنے آئی ہے۔ یہ منشیات وقتی طور پر توانائی، خوشی اور اعتماد کا احساس پیدا کرتی ہے، لیکن طویل مدّت میں دماغی اور جسمانی صحت کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔

اس کے ساتھ، بڑے شہری مراکز میں کوکین کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ اس کے استعمال کی شرح آئس یا ہیروئن کے مقابلے میں کم ہے، لیکن متمول اور مخصوص شہری حلقوں میں اس کی موجودگی تشویش کا باعث ہے۔ کوکین دماغ میں خوشی اور تحریک پیدا کرنے والے کیمیائی مادّوں کو غیر معمولی حد تک متحرّک کرتی ہے۔

اس کے مسلسل استعمال سے امراضِ قلب، فالج، شدید اضطراب، ڈیپریشن اور نفسیاتی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر پاکستان میں منشیات کے کسی ایک رجحان کو سب سے زیادہ تشویش ناک قرار دیا جائے، تو وہ آئس ہے۔ یہ نہ صرف شدید نفسیاتی انحصار پیدا کرتی ہے بلکہ کم وقت میں فرد کی شخصیت، سوچنے کی صلاحیت اور سماجی رویّے متاثر کر سکتی ہے۔ آئس استعمال کرنے والوں میں بے خوابی، وہم، جارحیت، یادداشت کی خرابی، شدید ذہنی دباؤ اور بعض اوقات خودکُشی کے رجحانات تک دیکھے گئے ہیں۔

ذہنی صحت اور منشیات: منشیات اور ذہنی صحت کا تعلق نہایت پیچیدہ ہے۔ بہت سے افراد ذہنی دباؤ، اضطراب، ڈیپریشن یا جذباتی مشکلات سے نجات کے لیے منشیات کا سہارا لیتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ یہی منشیات اُن کی ذہنی کیفیت مزید خراب کر دیتی ہے۔ نشے کے عادی افراد میں ڈیپریشن، اینگزائٹی، سماجی تنہائی، خودکُشی کے خیالات اور نفسیاتی بیماریوں کی شرح عام افراد کے مقابلے میں زیادہ دیکھی جاتی ہے۔

دوسری جانب، پہلے سے موجود ذہنی بیماریاں بھی بعض افراد کو نشے کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ اِسی لیے جدید طبّی نقطۂ نظر میں منشیات کی لت کو محض اخلاقی کم زوری نہیں، بلکہ ایک پیچیدہ طبّی اور نفسیاتی بیماری سمجھا جاتا ہے، جس کے لیے پیشہ ورانہ علاج اور مسلسل معاونت ضروری ہے۔

خواتین میں منشیات کا استعمال: خواتین میں منشیات کا استعمال پاکستان میں اب بھی کم رپورٹ ہونے والا مسئلہ ہے، لیکن حقیقتاً یہ خاموشی سے بڑھ رہا ہے۔ بہت سی خواتین درد کُش، نیند آور یا سکون آور ادویہ کے غیر ضروری استعمال کے سبب اِن پر انحصار کرنے لگتی ہیں۔ گھریلو تشدّد، جذباتی محرومی، ذہنی دباؤ، ازدواجی مسائل اور معاشی انحصار اس مسئلے کے اہم محرّکات ہیں۔

خواتین اکثر بدنامی کے خوف سے علاج کے مراکز تک نہیں پہنچ پاتیں، نتیجتاً بیماری مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے کہ نشے کی شکار ماں صرف اپنی ہی صحت نہیں کھوتی، اس کے اثرات بچّوں کی تعلیم، ذہنی نشوونما، جذباتی استحکام اور خاندانی ماحول تک پہنچتے ہیں۔ اِسی لیے خواتین میں منشیات کا مسئلہ دراصل آنے والی نسلوں کی صحت کا بھی مسئلہ ہے۔

قومی مستقبل پر خاموش حملہ: پاکستان میں بچّوں اور نوجوانوں میں منشیات کا استعمال ایک ایسا خطرہ ہے، جو بظاہر چھوٹا دِکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے اثرات قومی مستقبل پر مرتّب ہوتے ہیں۔ سڑکوں پر رہنے والے بچّے، محنت مزدوری کرنے والے کم عُمر افراد اور معاشی طور پر کم زور خاندانوں کے بچّے اِس مسئلے کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔

مختلف فیلڈ مشاہدات اور علاقائی مطالعات کے مطابق بعض شہری علاقوں میں منشیات کا پہلا تجربہ10 سے15 سال کی عُمر کے درمیان بھی رپورٹ کیا گیا۔ یہ وہ عُمر ہے، جہاں شخصیت تشکیل پا رہی ہوتی ہے اور اِسی مرحلے پر نشہ دماغی نشوونما کو مستقل طور پر متاثر کر سکتا ہے۔

نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کی بڑی وجوہ میں تعلیمی دباؤ، بے روزگاری، خاندانی تنازعات، منفی دوستیاں، ذہنی صحت کے مسائل اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات شامل ہیں۔ آئس اور دیگر Synthetic Drugs کی دست یابی نے صُورتِ حال مزید خطرناک کر دی ہے۔ اس کے نتائج صرف انفرادی نہیں، اجتماعی ہیں۔ تعلیمی نظام متاثر ہوتا ہے، ڈراپ آؤٹ کی شرح بڑھتی ہے، جرائم میں اضافہ ہوتا ہے اور نوجوان معاشرتی ترقّی کی بجائے سماجی انحراف کا حصّہ بن جاتے ہیں۔

شہری مراکز میں ایک نیا خطرہ:اگرچہ پاکستان میں کوکین کا استعمال ابھی محدود سمجھا جاتا ہے، لیکن بڑے شہری مراکز میں اس کی موجودگی بڑھتے رجحان کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں کے بعض متمول اور مخصوص سماجی حلقوں میں اس کی دست یابی سے متعلق رپورٹس نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کیا ہے۔

کوکین ایک طاقت وَر stimulant ہے، جو وقتی طور پر توانائی، خوشی اور اعتماد پیدا کرتی ہے، لیکن اس کا اثر مختصر اور دھوکا دہی پر مبنی ہوتا ہے۔ مسلسل استعمال دل کی بیماریوں، فالج، شدید اضطراب، ڈیپریشن اور نفسیاتی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ عالمی سطح پر کوکین کی پیداوار اور استعمال میں اضافہ ایک واضح رجحان ہے، جس کے اثرات ترقی پذیر ممالک تک بھی پہنچ رہے ہیں۔

منشیات اور معیشت:منشیات کا بحران صرف صحت یا سماج کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی ایشو بھی ہے۔ جب کوئی فرد نشے کی علّت کا شکار ہوتا ہے، تو اپنی تخلیقی صلاحیتیں کھو دیتا ہے، روزگار سے محروم ہو جاتا ہے اور اکثر خاندان پر مالی بوجھ بن جاتا ہے۔ عالمی سطح پر منشیات کی تجارت اربوں ڈالرز کی معاشی سرگرمیوں پر مشتمل ہے، جو منظّم جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھ میں جاتی ہے۔

پاکستان جیسے ترقّی پذیر مُلک میں جہاں صحت اور تعلیم کے وسائل پہلے ہی محدود ہیں، منشیات سے پیدا ہونے والا معاشی نقصان دُہرا ہو جاتا ہے۔ ایک طرف علاج کا بوجھ پڑتا ہے، دوسری طرف انسانی سرمائے کا نقصان ہوتا ہے۔ ہر وہ نوجوان، جو نشے کی وجہ سے تعلیم یا روزگار سے محروم ہو جائے، دراصل قومی معیشت کے لیے ایک مستقل نقصان ہے۔

انجیکشن ڈرگ یوزرز (PWID): انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والے افراد پاکستان میں صحتِ عامّہ کے ضمن میں انتہائی حسّاس اور خطرناک گروہ تصوّر کیے جاتے ہیں۔ غیر محفوظ سرنجز کے بار بار اور مشترکہ استعمال کی وجہ سے اِس گروہ میں ایچ آئی وی ایڈز، ہیپاٹائٹس-بی اور ہیپاٹائٹس-سی جیسے جان لیوا متعدّی امراض کے پھیلاؤ کا خطرہ کئی گُنا بڑھ جاتا ہے۔

یہ مسئلہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے اثرات براہِ راست خاندانوں اور وسیع تر کمیونٹی تک منتقل ہو سکتے ہیں، جس سے بیماریوں کی ایک خاموش، مگر مسلسل وَبا جنم لیتی ہے۔نتیجتاً نظامِ صحت پر بھی شدید دباؤ پڑتا ہے، کیوں کہ اسپتالوں میں طویل مدّتی علاج، اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی، ہیپاٹائٹس کے منہگے علاج اور بار بار داخلوں کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔

یوں نہ صرف صحتِ عامّہ کے وسائل محدود ہوتے ہیں، بلکہ مجموعی صحت کا بجٹ بھی غیر متناسب طور پر متاثر ہوتا ہے۔ منشیات کے استعمال کی سب سے خطرناک شکل انجیکشن کے ذریعے نشہ کرنا ہی ہے کہ اِس میں بیماریوں کی منتقلی براہِ راست خون کے ذریعے ہوتی ہے۔ اگر Harm Reduction پروگرامز، محفوظ سرنجز کی دست یابی (Syringe & Needle Exchange Programs)، آگاہی مہمّات اور مؤثر علاج تک رسائی بہتر نہ بنائی گئی، تو یہ مسئلہ محدود گروہوں سے نکل کر ایک بڑے اور پیچیدہ عوامی صحت کے بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے، جو آنے والے برسوں میں پورے نظامِ صحت کو مزید دباؤ میں لا سکتا ہے۔

پہلی سیڑھی سے بحالی تک:منشیات کے علاج میں خاندان کا’’پہلی سیڑھی‘‘ کا کردار فیصلہ کُن ہے۔ پاکستان میں35 فی صد عادی افراد نے18 سال سے پہلے نشہ شروع کیا اور یونی ورسٹیز میں44 فی صد طلبہ کسی نہ کسی منشیات کا تجربہ کر چُکے ہیں، اِس لیے مسئلہ گھر سے شروع ہوتا ہے، تو اس کا حل بھی گھر ہی سے نکلتا ہے۔ خاندان ہی سب سے پہلے اچانک غصّے میں آجانا، تنہائی، تعلیم میں گراوٹ اور غیر معمولی اخراجات جیسی علامات نوٹ کرتا ہے۔ والدین اگر سختی کی بجائے کُھلا مکالمہ کریں، تو نوجوان مدد مانگتا ہے۔

نشے کے علاج کے ری ہیب سینٹرز صرف 12میں سے ایک عادی کو مل پاتے ہیں، اِس لیے خاندان ہی’’گھریلو ری ہیب‘‘ بن کر دوا یاد دِلاتا ہے، تھراپی میں ساتھ جاتا ہے اور relapse پر حوصلہ دیتا ہے۔ عالمی ریسرچ کے مطابق، خاندان کے ساتھ کھڑے ہونے سے صحت یابی کے امکانات تین گُنا بڑھ جاتے ہیں۔ علاج کے بعد معاشرے کے’’مجرم‘‘ کے ٹیگ کے خلاف خاندان کی قبولیت ہی عادی کو ذمّے دار شہری بناتی ہے۔ والدین کی توجّہ، بہن بھائیوں کی دوستی اور گھر کا محبّت بھرا ماحول وہ24 گھنٹے دست یاب طاقت ہے، جو نوجوان کو نشے سے بچاتی اور پھسلنے پر واپس کھینچ لاتی ہے۔

بحالی کا نظام، سب سے کم زور کڑی: پاکستان میں منشیات کے علاج اور بحالی کا نظام اب بھی کئی مسائل کا شکار ہے۔ مراکز کی کمی، تربیت یافتہ عملے کی قلّت، محدود مالی وسائل اور سماجی بدنامی اِس نظام کی بڑی رکاوٹیں ہیں۔ زیادہ تر مریض علاج کے بعد دوبارہ نشے کی طرف لوٹ جاتے ہیں، جس کی بڑی وجہ فالو اَپ نظام کی کم زوری اور سماجی reintegration کی کمی ہے۔ بحالی صرف detoxification کا نام نہیں، بلکہ فرد کو دوبارہ معاشرے کا فعال حصّہ بنانے کا عمل ہے۔ جب تک بحالی کو قومی پالیسی کا مرکزی حصّہ نہیں بنایا جائے گا، مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتا۔

کوششیں مگر عدم تسلسل: پاکستان میں مختلف ادارے منشیات کی اسمگلنگ اور بڑے نیٹ ورکس کے خلاف مسلسل کارروائیاں کرتے ہیں۔ بڑی مقدار میں منشیات کی ضبطگی اِس امر کا ثبوت ہے کہ ادارہ جاتی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ یہ اقدامات زیادہ تر law enforcement تک محدود ہیں، لیکن تعلیم، ذہنی صحت، احتیاطی تدابیر اور بحالیٔ صحت جیسے امور کو وہ مربوط توجّہ نہیں ملتی، جو ایک جامع حکمتِ عملی کے لیے ضروری ہے۔ منشیات کا مسئلہ صرف گرفتاریوں سے حل نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کے لیے ایک multi-sectoral approach ضروری ہے۔

پاکستان کو اِس وقت جس ہمہ جہت سماجی و اقتصادی بحران کا سامنا ہے، اِس میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ہول ناک شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس زہرِ قاتل سے نسلِ نو کو بچانے اور مُلکی مستقبل محفوظ بنانے کے لیے اب روایتی اور وقتی اقدامات کی بجائے ایک جامع، طویل المدّتی اور مربوط قومی حکمتِ عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔

26 جون صرف ایک عالمی دن نہیں، یہ اجتماعی ضمیر جھنجوڑنے کا دن ہے اور2026 ء کا موضوع’’Health for Justice, Justice for Health‘‘ ہمیں سِکھاتا ہے کہ صحت اور انصاف ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں۔ جب متاثرہ افراد کو علاج، عزّت اور بحالیٔ صحت ملے گی اور ساتھ ہی اسمگلنگ اور جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی ہوگی، تو ہی ایک متوازن اور محفوظ معاشرہ تشکیل پائے گا۔ پاکستان کے لیے یہ وقت فیصلہ کن ہے۔ اگر آج مؤثر اقدامات نہ کیے گئے، تو آنے والی نسلیں اس خاموش بحران کی قیمت چُکائیں گی۔سو، اگر ایک جامع، انسانی اور سائنسی حکمتِ عملی اپنائی جائے، تو یہی بحران ایک محفوظ، صحت مند اور مضبوط مستقبل میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

اصل حقیقت یہی ہے’’ایک فرد کو نشے سے بچانا صرف ایک جان بچانا نہیں، بلکہ خاندان، معاشرے اور ایک پوری نسل کو محفوظ بنانا ہے۔‘‘ اور اِس تزویراتی منصوبے کا آغاز بنیادی سطح سے ہونا چاہیے، جس کے لیے تمام تعلیمی اداروں میں منشیات سے بچاؤ کا موضوع نصاب کا لازمی حصّہ بنایا جائے تاکہ طلبہ میں شعور اور اس لت کے خلاف ذہنی مزاحمت پیدا کی جا سکے۔

تاہم، صرف آگاہی کافی نہیں، نوجوانوں کو اِس اندھیرے راستے پر چلنے سے روکنے کے لیے متبادل اور مثبت مصروفیات فراہم کرنی ہوں گی۔ نوجوانوں کے لیے روزگار اور ہنر مندی کے وسیع مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بے روزگاری اور مایوسی کا خاتمہ ہو، جو اکثر منشیات کی جانب راغب ہونے کی بنیادی وجہ بنتی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی، معاشرے میں بڑھتے نفسیاتی دباؤ کو مینیج کرنے کے لیے ذہنی صحت کی خدمات انتہائی ضروری ہیں تاکہ لوگ ڈیپریشن اور انزائٹی کا علاج منشیات کی بجائے پیشہ ورانہ طبّی معاونت میں تلاش کریں۔علاج اور بحالی کے عمل میں صنفی حساسیت کو مدّ ِنظر رکھنا بھی اہم ہے کہ عام طور پر خواتین مریضوں کو معاشرتی بدنامی کے خوف سے چُھپایا جاتا ہے، اِس لیے خواتین کے لیے ایسے مراکز قائم کرنے ہوں گے، جہاں وہ بغیر کسی خوف، ہچکچاہٹ اپنا علاج کروا سکیں۔

مزید برآں، جو لوگ اس لت میں شدید مبتلا ہو چکے ہیں، ان کی زندگیوں کو فوری خطرات اور مہلک بیماریوں (جیسے ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس) سے بچانے کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ Harm Reduction پروگرامز متعارف کروانے ہوں گے۔ منشیات سے چھٹکارا پانے کے بعد مریض کو معاشرے کا کارآمد حصّہ بنانا اصل چیلنج ہوتا ہے، جس کے لیے ایک فعال بحالی اور بعد از علاج سپورٹ سسٹم کا قیام ضروری ہے، جو انہیں اِس دلدل میں دوبارہ گرنے سے روکے اور ان کی سماجی و معاشی بحالی یقینی بنائے۔ نیز، منشیات کی رسد لائن کاٹنا بھی اہم ہے، تو ریاستی سطح پر اسمگلنگ کے خلاف سخت، جدید اور ٹیکنالوجی سے لیس اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔ (مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، محکمۂ صحت، سندھ ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید