• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہباز شریف اور عاصم منیر عالمی امن کے تاریخی معمار، پاکستان کی کامیابی بے مثال

نقطہء نظر: انصار عباسی


اسلام آباد :…ایران اور امریکا کے درمیان جمعہ کو جنیوا میں باضابطہ امن معاہدے پر دستخط متوقع ہیں، جس کے ساتھ ایک ایسے تنازع کا خاتمہ ہو جائے گا جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو طویل عدم استحکام کے خطرے سے دوچار کیا بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید جھٹکا دیا۔ اس پیش رفت کے ساتھ پاکستان نے سفارتی سطح پر ایک ایسی کامیابی حاصل کی ہے جس کی جدید تاریخ میں کم ہی مثال ملتی ہے۔ تین ماہ سے زائد جاری رہنے والی جنگ کے بعد طے پانے والے اس معاہدے کو دنیا بھر میں تصادم پر سفارت کاری کی فتح اور 21ویں صدی کی اہم ترین امن پیش رفتوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پورے معاملے کے درمیان، جسے بین الاقوامی حلقے بھی تسلیم کر رہے ہیں، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر رہے، جن کی مربوط سیاسی اور اسٹریٹجک کوششوں نے فریقین کو تصادم سے مذاکرات کی طرف لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایران اور امریکا۔اسرائیل کے درمیان جنگ نے ایک وسیع علاقائی تنازع کے خدشات کو جنم دیا تھا، جس میں متعدد ممالک کے شامل ہونے کا امکان تھا، جبکہ عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی اور عالمی منڈیاں عدم استحکام سے دوچار ہوگئیں۔ کشیدگی جاری رہتی تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا تھا۔ اس پس منظر میں پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آیا جو تمام فریقین کے ساتھ رابطہ اور اعتماد برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اسلام آباد نے تہران اور واشنگٹن کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کے ساتھ سعودی عرب، قطر، ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور چین سمیت اہم علاقائی ممالک کے ساتھ بھی قریبی تعاون جاری رکھا تاکہ امن عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ دونوں حریفوں کے درمیان بالواسطہ مذاکرات انتہائی پیچیدہ ثابت ہوئے، جن میں کئی مرتبہ تعطل، عسکری کشیدگی اور ایسے لمحات بھی آئے جب یہ عمل ناکامی کے قریب دکھائی دیا۔ تاہم، پاکستان کی قیادت نے مسلسل مذاکرات پر زور دیا اور تمام فریقین کو یقین دہانی کرائی کہ سفارتی حل اب بھی ممکن ہے۔ سرکاری حلقوں میں خصوصی طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، مذاکرات کے پورے عمل میں وہ سرگرم رہے، علاقائی اور عالمی فریقین سے رابطے میں رہے اور نازک مراحل میں مواصلاتی چینلز کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دوسری جانب، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سیاسی قیادت اور سفارتی سمت پر توجہ دی، جس کے نتیجے میں پاکستان ایک موثر ثالث کے طور پر سامنے آیا۔ حکام کے مطابق، سویلین حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان قریبی ہم آہنگی اس امن عمل کی بڑی قوت ثابت ہوئی۔ اس کامیابی کی اہمیت صرف دو حریفوں کے درمیان معاہدہ کرانے تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے ممکنہ بڑے جنگی بحران کو روکنے میں ہے جو پورے خطے اور دنیا کیلئے سنگین انسانی اور معاشی نتائج کا باعث بن سکتا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کیلئے نہ صرف امریکا اور ایران کی اعلیٰ قیادت بلکہ دنیا کے مختلف حصوں سے بھی تعریفیں سامنے آ رہی ہیں۔ نوبیل امن انعام ماضی میں اُن شخصیات کو دیا جاتا رہا ہے جنہوں نے تنازعات کے خاتمے، امن معاہدوں کی تشکیل یا بڑی جنگوں کو روکنے میں کردار ادا کیا۔ کئی حلقوں کا خیال ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان طویل کشیدگی کے بعد امن کے قیام میں پاکستان کی قیادت کا کردار عالمی سطح پر تسلیم شدہ بڑی سفارتی کامیابیوں کے ہم پلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ یہ کوئی معمولی تنازع یا محدود علاقائی بحران نہیں تھا۔ اس کے اثرات عالمی نوعیت کے تھے۔ اگر پاکستان کی کوششوں نے ایک خطرناک جنگ کو پائیدار امن میں بدل دیا ہے تو حالیہ تاریخ میں اس جیسی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔ ایران امریکا تنازع کے کامیاب اختتام نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈمارشل عاصم منیر کو اُن عالمی رہنماؤں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے جن کے اقدامات نے دنیا کے حالات کی سمت بدل دی۔

اہم خبریں سے مزید