• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خاندانی منصوبہ سازی، صحت اور تعلیم پر سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت، شرکا میڈیا کولیشن میٹنگ

لاہور (محمد صابر اعوان سے ) ملک میں آبادی کی منصوبہ بندی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے جنگ جیو گروپ کے اشتراک سے جاری وقفہ مہم کے دور رس اثرات مرتب ہورہے ہیں اور میڈیا کے توسط سے تیزی سے بڑھتی آبادی کی آواز اب ملک کے بالا ایوانوں میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مانع حمل کے طریقوں میں استعمال ہونے والے مواد پر ٹیکس کا مکمل خاتمہ اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے،صحافیوں اور پالیسی ماہرین نے آبادی اور وسائل میں توازن کو پاکستان کی معاشی استحکام، انسانی ترقی اور بہتر وسائل کی تقسیم کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے خاندانی منصوبہ سازی ، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے اور فنڈز کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ یہ مطالبات پاپولیشن کونسل اور یو این ایف پی اے کے اشتراک سے منعقدہ میڈیا کولیشن میٹنگ میں سامنے آئے، جس میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے میڈیا نمائندگان، پالیسی ماہرین اور ترقیاتی شعبے کے افراد نے شرکت کی۔پاپولیشن کونسل کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر علی میر نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ وقفہ مہم کے تحت جنگ اور جیو نیوز کے پروگرام "گریٹ ڈیبیٹ" نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا جس میں وفاقی فنانس منسٹر نے شرکت کی تھی اور ٹیکس کے خاتمے کی یقین دہانی کروائی تھی انہوں نے کہا کہ ملک میں آبادی کی منصوبہ بندی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے جنگ جیو گروپ کے اشتراک سے جاری وقفہ مہم کے دور رس اثرات مرتب ہورہے ہیں اور میڈیا کے توسط سے تیزی سے بڑھتی ابادی کی آواز اب ملک کے بالا ایوانوں میں بھی سنائی دے رہی اپنے خطاب نے ان کا کہنا تھا اللہ صحت اور تعلیم پر اخراجات دراصل ملک کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہیں۔پاپولیشن کونسل کے مینیجر کمیونیکیشن، اکرام الاحد نے اپنی پریزنٹیشن میں نشاندہی کی کہ پاکستان کی آبادی تقریباً 2.5 فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھ رہی ہے، تاہم آبادی اور خاندانی منصوبہ سازی کے شعبے پر سرکاری اخراجات خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں کم ہیں۔ سینئر اکنامک ایڈوائزر عمار علی قریشی نے کہا کہ آبادی اور وسائل میں توازن محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی آبادی اور معاشی چیلنجز ملک کی ترقی کی رفتار کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ خواتین کی تعلیم اور معاشی سرگرمیوں میں شمولیت پائیدار ترقی اور شرح پیدائش میں کمی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔اجلاس میں شریک میڈیا نمائندگان نے صحت، تعلیم اور آبادی کے شعبوں میں موجود چیلنجز، محدود وسائل اور خدمات کی فراہمی کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیاکہ آبادی میں توازن ایک قومی ترجیح ہے۔میڈیا نمائندگان نے آبادی اور ترقی کے موضوعات پر شواہد پر مبنی اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اہم خبریں سے مزید