کراچی (اسٹاف رپورٹر)ایڈیشنل آئی جی کراچی کے انسداد جرائم کے دعوؤں کے باوجود پولیس لوٹ مار اور ڈکیتی و رہزنی کی وارداتوں اور جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے ۔ضلع سینٹرل کے علاقے ناظم آباد نمبر چار میں جرائم اور چھینا جھپٹی کی وارداتیں جاری ہیں جو پولیس حکام کے احکامات کو ہوا میں اڑا دینے کے مترادف ہے۔ تھانے کے اطراف اور عقب میں موٹر سائیکل سوار مشتبہ افراد کی بلاخوف و خطر آمد و رفت اور اسلحہ کے زور پر مکینوں کو ہراساں کرکے موبائل فون، نقدی اور قیمتی اشیا سے محروم کرنامعمول بن گیا ہے۔ رہزن اور ڈکیت گروہ پولیس کے کسی خود کو خاطر میں نہیں لاتے، اسلحہ بردار لٹیروں کا موٹر سائیکلوں پر ناظم آباد تھانے کی گلیوں اور عقب میں پولیس کے ڈر اور خوف کے بغیر یوں دندناتے پھرنا اور لوگوں کو ان کی قیمتی اشیا سے محروم کرنا اعلیٰ حکام کی احکامات کی روگردانی اور پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے مکینوں کو گھروں میں محصور کردیا ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کہیں سے واپس گھر آنا تک دوبھر کردیا ہے، ڈاکو پیچھا کرتے ہوئے آتے ہیں اور گھر کے دروازوں پر لوٹ مار کر کے کر باآسانی فرار ہوجاتے ہیں۔ سڑکوں پر پولیس کاگشت بھی نہیں ہوتا اور کہیں کوئی چیکنگ بھی نظر نہیں آتی ،لوگ بے یارو مددگار قیمتی اشیا سے محروم کرنے والے لٹیروں کو جاتا دیکھ کر خون کے آنسو رونے پر مجبور ہوتے ہیں۔ علاقہ مکینوں نے کہا ہے کہ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کو چاہئے کہ کم از کم اپنے احکامات کا پاس رکھتے ہوئے متعلقہ تھانے کی سرزنش کریں اور علاقہ میں نفری کا گشت یقینی بنائیں تاکہ مکین بھی لٹیروں اور ڈاکوؤں کی طرح بے خوف و خطر علاقہ میں آمد و رفت جاری رکھ سکیں اور خواتین روزمرہ اشیا خرید سکیں۔